افغانستان کے زیادہ تر حصے پر ہمارا کنٹرول ، طالبان کا دعویٰ

غیرملکی فوجی طالبان کے ڈر سے اپنے اڈوں تک محصور ، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا انٹرویو

غیرملکی فوجی طالبان کے ڈر سے اپنے اڈوں تک محصور ، ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا انٹرویو
کابل، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے زیادہ تر علاقوں پر ان کا کنٹرول ہے اور وہ غیر ملکی افواج پر جلد فتح حاصل کرلیں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان کے دوردرازعلاقوں میں صرف طالبان ہی نظرآتے ہیں اور غیرملکی فوجی طالبان کے ڈرسے اپنے اڈوں تک محصور ہوگئے ہیں۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ غیر ملکی فوجی اہلکار اپنے اڈوں سے باہر نکلنے سے بھی ڈرتے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ غیر ملکی افواج کو افغانستان میں شکست ہوگی۔ طالبان کے ترجمان نے صدارتی انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی امیدواروں کے ساتھ ان کے کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ طالبان دوبارہ وہاں قابض ہو جائیں گے۔ تاہم سال 1996 میں ان کا کابل پر قبضہ غیر متوقع تھا اور انتخابات میں ایک کمزور اور بدعنوان صدر کے انتخاب کی صورت میں طالبان مضبوط ہو سکتے ہیں۔ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج ایساف کی جنگی فوج رواں سال ملک سے نکل جائے گی اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان فوج کے پاس ہوں گی۔ ایساف افواج نے سال 2013 میں پورے افغانستان کی سکیورٹی افعان فوج کے حوالے کر دی تھی۔ تاہم اب بھی 97 ہزار فوج کی وہاں موجودگی ہے جس میں 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر ابھی تک دستخط نہیں کئے ہیں۔ معاہدے کی صورت میں سال 2014 کے بعد امریکی فوجی افغانستان میں قیام کر سکیں گے۔ سال 2001 میں طالبان اقتدار کے خاتمے کے بعد حامد کرزئی پہلے صدر بنے تھے اور ملکی آئین کے مطابق وہ تیسری بار صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT