Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / افغانستان کے مغربی شہر پر طالبان کا حملہ ، زبردست جنگ

افغانستان کے مغربی شہر پر طالبان کا حملہ ، زبردست جنگ

موسم بہار کی طالبان کی جارحیت میں شدت، شہر فرح کے اہم مقامات پر قبضہ
ہیرات ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے طیارے نے آج طالبان کے مورچوں پر افغانستان کے مغربی شہر فرح میں بمباری کی جبکہ شورش پسندوں نے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کیلئے بڑے پیمانے پر کوشش کی تھی۔ خوفزدہ مقامی عوام دھماکوں اور فائرنگ سے بچنے کیلئے پناہ گاہیں تلاش کرتے نظر آئے۔ طالبان کے سالانہ موسم بہار کے جارحانہ حملوں کے آغاز کے بعد یہ پہلا سب سے بڑا فرح پر حملہ تھا جس کا آغاز تقریباً آدھی رات کو ہوا۔ عسکریت پسندوں نے ایک شہری ضلع اور دوسرے ضلع کے چند علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ مقامی کونسل رکن جمیلہ امینی نے کہا کہ زبردست جنگ شہر کے اندر جاری ہے۔ طیاروں نے ابھی ابھی طالبان کے مورچوں پر بمباری شروع کی ہے۔ افغان عہدیداروں نے کہا کہ خصوصی پولیس کے ارکان عملہ جو قندھار سے آئے ہیں اور ہیرات کی کمان میں دیئے گئے ہیں، تعینات کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو ناکامی ہوگی۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے کہا کہ افغان اور غیرملکی افواج جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔ فوری طور پر ناٹو کے مشن برائے کابل کی جانب سے اس اطلاع کی توثیق نہیں ہوسکی۔ وزارت دفاع کے ترجمان محمد ریصمانش نے کہا کہ تقریباً 10 شورش پسند اور دو افغان فوجی تاحال ہلاک ہوچکے ہیں۔ صورتحال قابو میں ہے اور ان کے ختم ہونے تک تبدیل ہوجائے گی لیکن شہر کے اندر ساکن افراد کی اطلاع کے بموجب جھڑپیں جاری ہیں۔ صورتحال ابتر ہے۔ فرح کے ایک قبائیلی سردار ستار حسینی نے کہا کہ صورتحال ابتر ہے۔ زبردست جنگ جاری ہے اور طالبان شہر میں داخل ہوگئے ہیں لیکن پولیس ہیڈکوارٹر اور افغان محکمہ سراغ رسانی طالبان کے قبضہ میں نہیں آئے۔

این ڈی ایس کی فوجیں اپنے ہیڈکوارٹرس میں طالبان کے ساتھ زبردست جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ صوبائی کونسل کے ایک اور رکن داداللہ غنی نے توثیق کی کہ حسینی کا تبصرہ درست ہے۔ فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں جبکہ وہ ٹیلیفون پر خبر رساں ادارہ سے بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پوری شہر میں یہی آوازیں گونج رہی ہے۔ ایک شخص نے جس اپنا نام بلال بتایا، کہا کہ وہ این ڈی ایس کی عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ چند عسکریت پسند قیامگاہوں میں روپوش ہیں جس کی وجہ سے افغان فوج کو بھاری اسلحہ کے استعمال میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ فرح کے گورنر عبدالبصیر تلنگی نمے امریکن نیوز سے کہا کہ اب بھی ہم ایک کے بعد ایک عمارتوں پر اپنا قبضہ بحال کررہے ہیں۔ شورش پسندوں نے مقامی شہریوں کو انتباہ دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے اور انہیں ہدایت دی ہیکہ اپنی قیامگاہوں تک محدود رہیں اور پرسکون رہیں۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر بھی شہر میں قبضہ ہونے کی اطلاعات شائع کی جارہی ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے کئی چینلس اپنے نشریہ بند کرچکے ہیں۔ انہیں اپنے آجرین کا اور ملازمین کی زندگیوں کا خوف ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نگران کار ادارہ کے بموجب طالبان موسم بہار کی اپنی جارحیت میں شدت پیدا کرتے جارہے ہیں۔ ایک شخص نے ملازمین کی جان کے خطرہ کو مسترد کردیا۔ فرح خشخش کی پیداوار کا مرکز ہے اور بالکل الگ تھلگ صوبہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT