Monday , July 16 2018
Home / دنیا / افغان بحران ۔مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی

افغان بحران ۔مکہ اعلامیہ اسلامی اقدار پر مبنی

جدہ ،12جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایسا لگتا ہے کہ افغان طالبان پر دباؤ بنانے کیلئے امریکہ اب سعودی عرب کواستعمال کررہاہے اس سے پہلے وہ خود بھی کوشش کرچکا ہے ۔گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ افغان طالبان کو افغان سرکار سے امن کیلئے گفت و شنید کرنی چاہئے ۔ اسی سلسلہ میں اب سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی علما کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘جاری کیا گیا ہے جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کر کے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے ۔شہزادہ خالد الفیصل نے اس کانفرنس کی سربراہی کی۔ کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے سربراہ یوسف بن احمد العثیمین کا کہنا تھا کہ یہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے پر امن حل کا شرعی حل پیش کرتا ہے ۔بی بی سی کے مطابق اس اعلامیہ میں افغانستان میں موجود گروہوں سے جنگ بندی کر کے تشدد، تفرقے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے ۔اعلامیہ میں کہا گیا’’ہم افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک معاہدہ کریں اور مذاکرات کا اغاز کریں‘‘۔ شاہ سلمان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے سعودی عرب اور او آئی سی کے اقدام سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔

جرمنی:زیرحراست ایرانی
سفارتکار کی تفصیلات جاری
برلن،12جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جرمنی نے فرانس میں جلا وطن ایرانیوں پر حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز زیر حراست ایرانی سفارت کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ جرمن حکام نے بتایا 46 سالہ اسد اللہ ‘اے ‘ کو صوبے باویریا سے یکم جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسد اللہ آسٹریا میں تعینات تھے ۔ شبہ ہے کہ انہوں نے بیلجیم میں رہائش پذیر ایک ایرانی جوڑے کو دھماکہ خیز مواد فراہم کیا تھا۔ ممکنہ طور پر یہ دھماکہ خیز مواد یوروپ میں مقیم ان ایرانی شہریوں کے خلاف استعمال کیا جانا تھا، جو تہران حکومت کے مخالف ہیں۔ اس مقصد کے لیے 30جون کو پیرس میں ہوئی ایک ریلی کا انتخاب کیا گیا تھا۔

مائیکل فلن نے قطر میں ملازمت کرلی
نیویارک ،12جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ڈونالڈ ٹرمپ کے سابق مشیر مائیکل فلن نے واشنگٹن میں قطر کے لیے لابی کرنے والی ایک کمپنی میں ملازمت کر لی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ فلن اسٹوننگٹن گلوبل ایل ایل سی نامی کمپنی میں ‘گلوبل اسٹریٹیجی’ کے ڈائرکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں گے ۔ انہوں نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے حوالے سے اپنا قصور تسلیم کیا تھا۔ وہ محض 22 دنوں تک ڈونالڈ ٹرمپ کے سلامتی مشیر رہے تھے ۔ انہیں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیفنس اینٹیلیجنس کی سربراہی سے برطرف کر دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT