Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / افغان شہر جلال آباد میں بینک کے باہر خود کش حملہ ۔ 40 افراد ہلاک

افغان شہر جلال آباد میں بینک کے باہر خود کش حملہ ۔ 40 افراد ہلاک

جلال آباد 18 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں آج ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ یہ حملہ کہا گیا ہے کہ ایک بینک کے باہر کیا گیا جہاں سرکاری اسٹاف اور فوجی اہلکار اپنی تنخواہیں حاصل کر رہے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی طاقتور بم حملہ تھا جو ہلاکت خیز رہا ہے ۔ اس کے اثر سے

جلال آباد 18 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں آج ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ یہ حملہ کہا گیا ہے کہ ایک بینک کے باہر کیا گیا جہاں سرکاری اسٹاف اور فوجی اہلکار اپنی تنخواہیں حاصل کر رہے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی طاقتور بم حملہ تھا جو ہلاکت خیز رہا ہے ۔ اس کے اثر سے اطراف و اکناف کی عمارتیں بھی دہل کر رہ گئیں۔ عمارتوں میں کھڑکیوں کے شیشے وغیرہ بھی ٹوٹ گئے ۔ کہا گیا ہے کہ خودکش بمبار نے ملازمین کے درمیان پہونچ کر خود کو دھماکہ سے اڑا لیا ۔ ننگربار صوبائی پولیس کے سربراہ فیصل احمد نے بتایا کہ خود کش حملہ میں ہلاکتیں اس لئے زیادہ ہوئیں کیونکہ سرکاری ملازمین اپنی تنخواہیں حاصل کرنے جمع ہوئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ مہلوکین میں 30 سرکاری ملازمین کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان احمد ضیا عبدالزئی نے بھی حملہ کی توثیق کی ہے اور کہا کہ درجنوں افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جلال آباد میں حالیہ عرصہ میں یہ سب سے بڑا حملہ ہے ۔

کہا گیا ہے کہ مہلوکین میں کچھ بچے بھی شامل ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس حملہ کو انتہائی بذلانہ اور مذموم دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے کئی افراد کو زمین پر زخمی حالت میں پڑے ہوئے دیکھا اور چاروں طرف نعشیں بھی پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ایمبولنس گاڑیاں بہت تاخیر سے آئیں ۔ کئی افراد یہاں اپنے زخموں سے جانبر نہ ہوسکے ۔ پولیس نے کہا کہ قریبی مقام پر ایک اور بم دستیاب ہوا جسے پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنادیا گیا ۔ کہا گیا ہے کہ جلال آباد میں ایک مذہبی مقام کے باہر آج صبح بھی ایک دھماکہ ہوا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ اس دوران ایک شخص نے بی بی سی کو فون کرتے ہوئے خود کو داعش کا ترجمان قرار دیا اور جلال آباد میں ہوئے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ شہید اللہ شہید نامی ایک شخص نے خود کو داعش کا ترجمان قرار دیا اور کہا کہ اس کے گروپ نے یہ حملہ کیا ہے ۔ اس نے خود کش بمبار کا نام بھی بتایا ۔ بی بی سی کو اس ادعا کی توثیق میں کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ اگر اس دعوی کی توثیق ہوجاتی ہے تو افغانستان میں یہ داعش کا پہلا بڑا حملہ ہے ۔ شہید اللہ شہید پاکستانی طالبان کا ترجمان تھا جس نے حال ہی میں داعش کی تائید کا اعلان کیا تھا جس کے بعد طالبان نے اسے سبکدوش کردیا تھا ۔ جلال آباد گذشتہ سال طالبان کے حملوں کا مرکز رہا تھا ۔

ناٹوکی مداخلت کے بعد یہ دعوی کیا گیا تھا کہ یہاں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔ ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ جلال آباد کے پولیس سربراہ فضل احمد شیرزاد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ خود کش بمبار نے ملازمین کے درمیان پہونچ کر خود کو دھماکہ سے اڑا لیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ داعش کے ولایت خراسانی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں خود کش بمبار کی ابو محمد کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے ۔ آن لائین پوسٹ میں بھی داعش نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن اس کی کوئی توثیق نہیں ہوسکی ہے ۔ افغان میڈیا نے بھی اطلاع دی ہے کہ سابق پاکستانی طالبان ترجمان شہید اللہ شہید نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان جاری کیا ہے ۔ جس وقت یہ دھماکہ کیا گیا اس وقت بینک میں سرکاری ملازمین کی خاطر خواہ تعداد موجود تھی ۔

TOPPOPULARRECENT