Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / افغان فوجی ٹھکانے پر طالبان کے حملہ میں مہلوکین کی تعداد 150 ہوگئی

افغان فوجی ٹھکانے پر طالبان کے حملہ میں مہلوکین کی تعداد 150 ہوگئی

شمالی صوبہ بلخ میں طالبان کی کارروائیوں اور سپاہیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ

مزار شریف ۔22 اپریل۔(سیاست ڈاٹ کام) شمالی افغانستان کے فوجی ٹھکانے پر طالبان کی جانب سے کئے گئے ایک خون ریز حملے میں زائد از 150 افغان سپاہی ہلاک ہوئے اور درجنوں زخمی بتائے گئے ہیں۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے یہ بات بتائی۔ افغان فوجی اڈوں کے خلاف خون ریز حملوں کے سلسلہ وار کارائیوں میں یہ حملہ تازہ کارروائی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کا یہ علاقہ شدید سلامتی بحران سے دوچار ہے ۔ دونوں جانب بڑھتی فائرنگ اور ہلاکت خیز حملوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ وزارت دفاع نے کل مزار شریف پر حملہ میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد نہیں بتائی ہے ۔ یہ فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ طالبان کے جنگجوؤں نے ایک مسجد اور کینٹین کے مقام کو نشانہ بنایا ہے ۔ امریکی فوج کاکہنا ہے کہ اس حملے میں زائد از 50 افغان سپاہی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ افغان فوجی ذرائع نے جو اس حملے کے مقام پر تھے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 150 سے زائد ہوسکتی ہے ۔ اس میں درجنوں دیگر سپاہی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ دو حملہ آوروں نے اس دھاوے کے دوران خود کو دھماکہ سے اُڑالیا ۔ یہ تمام افغان فوجی یونیفارم میں ملبوس تھے اور فوجی گاڑیوں میں یہاں پہونچے تھے ۔ حملے میں کوئی بھی شہری ہلاک نہیں ہوا ہے ۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ کم از کم 10 حملہ آور یہاں پہونچے تھے ۔ فوجی اڈے پر ہلاک ہونے والے یہ افغان سپاہی دراصل نوبھرتی شدہ نوجوان تھے جو یہاں ٹریننگ کیلئے پہونچے تھے ۔ افغانستان میں امریکہ کے اعلیٰ کمانڈر جنرل جان نیکولسن نے افغان کمانڈرز کی ستائش کی کہ انھوں نے اس تصادم کو فوری کامیابی کے ساتھ ختم کردیا ۔ مارچ میں کابل ہاسپٹل پر حملہ کیا گیا تھا اور کابل میں ہی دو سکیورٹی کمپاؤنڈس میں دو خودکش حملے کئے گئے تھے جن میں 16ہلاک ہوئے تھے ۔ افغان فوج کو تربیت دینے کیلئے مزید امریکی فوج کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ہفتہ ننگرہار میں امریکی بڑے بم حملے میں دولت اسلامیہ کے 90 سے زائد ارکان ہلاک ہوئے تھے ۔ آج کے حملے کے بارے میں افغان فوج کے ترجمان نے بتایا کہ فوجی اڈے میں قائم مسجد سے جمعہ کی نماز پڑھکر باہر نکلنے والے سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا ۔ مزارشریف میں یہ فوجی اڈہ افغان نیشنل آرمی کی 209 ویں کارپ کی بیس ہے۔ یہ فوجی دستہ شمالی افغانستان میں سلامتی اُمور انجام دیتا ہے۔ کندوز صوبہ میں بھی اس کی سکیورٹی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT