Saturday , June 23 2018
Home / دنیا / افغان چناؤ کے مخالف طالبان کا ووٹروں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

افغان چناؤ کے مخالف طالبان کا ووٹروں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ

کابل ۔ 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) طالبان شورش پسندوں نے افغانستان کے جاری صدارتی انتخابات کے دوران حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے اور رائے دہندوں کو مشورہ دیا ہیکہ وہ مراکز رائے دہی سے دور رہیں تاکہ امکانی موت یا زخمی ہونے سے بچ سکیں۔ صدر حامد کرزئی نے کہا کہ 14 جون کو افغانستان میں رائے دہی ہونے والی ہے جس کے ذریعہ اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ کی

کابل ۔ 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) طالبان شورش پسندوں نے افغانستان کے جاری صدارتی انتخابات کے دوران حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے اور رائے دہندوں کو مشورہ دیا ہیکہ وہ مراکز رائے دہی سے دور رہیں تاکہ امکانی موت یا زخمی ہونے سے بچ سکیں۔ صدر حامد کرزئی نے کہا کہ 14 جون کو افغانستان میں رائے دہی ہونے والی ہے جس کے ذریعہ اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ کی کامیابی کا فیصلہ ہوجائے گا۔ عسکریت پسندوں کو 2001ء میں امریکی زیرقیادت حملہ کے بعد اقتدار سے بیدخل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے 5 اپریل کو رائے دہی کے پہلے مرحلہ کے دوران حملہ کی دھمکی دی تھی لیکن اس دن پرامن طور پر رائے دہی ہوئی۔ کوئی بڑا صیانتی واقعہ پیش نہیں آیا۔ و

یب سائیٹ پر شائع شدہ اپنے انگریزی بیان میں طالبان نے کہا کہ ان کے جنگجو ایک بار پھر رائے دہی مراکز کے کارکنوں کے خلاف دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کے موقع پر کارروائی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ چنانچہ عوام کو مراکز رائے دہی سے 14 جون 20014ء کو دور رہنا چاہئے ورنہ وہ ہلاک یا زخمی ہوسکتے ہیں۔ جمعہ کے دن عالمی بینک کے سابق ماہر معاشیات عبدالغنی نے کہا تھا کہ اگر وہ منتخب ہوجائیں تو وہ امریکہ کے ساتھ تاخیر کا شکار صیانتی معاہدہ کریں گے جس پر دستخط کرنے سے موجودہ صدر حامد کرزئی نے انکار کردیا ہے۔ عبداللہ عبداللہ نے بھی کہا ہیکہ وہ اس معاہدہ پر دستخط کریں گے۔ عبدالغنی کو دوسرے مرحلہ کی رائے دہی میں سخت مسابقت درپیش تھی۔ انہیں صرف 31.6 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ عبداللہ عبداللہ کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی تعداد 45 فیصد تھی۔ پہلے مرحلہ میں 8 امیدوار تھے۔

TOPPOPULARRECENT