Sunday , May 20 2018
Home / Top Stories / افغان ہوٹل کے کمرہ میں بم دھماکہ ، تین قبائلی رہنما ہلاک

افغان ہوٹل کے کمرہ میں بم دھماکہ ، تین قبائلی رہنما ہلاک

مغربی صوبہ میں پولیس چیک پوائنٹس پر طالبان کے حملے ۔ 9 پولیس اہلکار بھی مار ے گئے
کابل 20 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) افغانستان میں ایک ہوٹل کے کمرہ میں ایک بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں تین قبائلی قائدین ہلاک ہوگئے جبکہ افغان عہدیداروں نے اطلاع دی ہے کہ تخریب کاروں کی جانب سے کئے گئے ایک علیحدہ حملے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ کہا گیا ہے کہ مشرقی صوبہ ننگر ہار کی ایک ہوٹل میں دھماکہ ہوا تھا ۔ ننگر ہار میں ایک ترجمان عطا اللہ خوگیانی نے کہا کہ یہ دھماکہ دوپہر کے وقت ہوٹل کے کمرہ میں ہوا جبکہ وہاں قبائلی قائدین جلال آباد میں جمع ہوئے تھے ۔ جلال آباد صوبہ کا دارالحکومت ہے اور یہ قائدین وہاں گاووں کے مسائل پر بات چیت کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ خوگیانی نے کہا کہ دھماکہ میں تین دوسرے قبائلی قائدین زخمی ہوئے ہیںجبکہ ایک اور بم کا وہاں پتہ چلایا گیا اور پولیس نے اسے ناکارہ بنادیا ہے ۔ ابھی اس دھماکہ کے تعلق سے کوئی اور اطلاع نہیں ملی ہے اور کسی نے بھی اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے ۔ ننگر ہار صوبہ میں طالبان اور افغانستان آئی ایس سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی سرگرم ہیں۔ اس دوران مغربی صوبہ فرح میں پولیس چیک پوائنٹس پر کئے گئے حملوں میں 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ۔ فرح گورنر کے ترجمان محمد ناصر مہری نے بتایا کہ کل رات کے دوران دو پولیس چیک پوائنٹس پر حملے کئے گئے ہیں۔ ایک حملہ بالا بلوک ضلع میں اور دوسرا فرح سٹی کے قریب کیا گیا ۔ مہری نے کہا کہ حملہ کے بعد ہونے والے تصادم میں کم از کم 13 تخریب کار بھی مارے گئے ہیں۔ یہ لڑائی آج صبح کی اولین ساعتوں تک جاری رہی ہے ۔ طالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ میڈیا کو روانہ کردہ بیان میں انہوں نے ادعا کیا کہ طالبان نے 10 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنالیا ہے ۔ صوبائی حکام نے تاہم اغوا کے اس دعوی کی توثیق نہیں کی ہے ۔ آج بھی دو بندوق برداروں نے کپیسہ صوبہ میں پولیس پارٹی پر فائرنگ کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT