Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں داخلوں کیلئے سرگرم بیداری مہم

اقامتی اسکولس میں داخلوں کیلئے سرگرم بیداری مہم

پرانے شہر کے محلہ جات پر توجہ مرکوز، ادارہ سیاست کی تعلیمی و سماجی خدمات کی ستائش

حیدرآباد۔/22مئی، (دکن نیوز) ریاستی حکومت نے اقلیتی طلباء کے داخلوں اور ان کو معیاری تعلیم، رہائش کا جو نظم کیا ہے اور اس کی تشہیر کے لئے کروڑوہا روپئے خرچ بھی کررہی ہے، تلنگانہ اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی حیدرآباد مہیلا منڈل نے اس کا خیرمقدم کیا اور اپنے کارکنوں کو اس بات کا مشورہ دیا کہ محلہ واری سطح پر والدین اور بچوں میں شعور بیدار کریں تاکہ زیادہ مسلم بچے انگریزی اقامتی اسکولس میں داخلہ لیں۔ ان تمام امور کی کارکردگی کے ساتھ آج اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی اور حیدرآباد مہیلا منڈل کے ایک وفد نے جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ سے ان کے دفتر ( سیاست ) میں ملاقات کی جس پر جناب ظہیر الدین علی خاں نے اس وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اقلیتی طلباء کو اقامتی اسکولس میں داخلوں کا یہ پہلا سال ہوگا اور حکومت کی اس تشہیر اور عوام کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو داخلہ دلوائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ ایس سی طلباء کو ان اسکولس میں داخلوں کیلئے ساتھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکولس میں قابل اساتذہ کا تقرر کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء میں تعلیمی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ وٹے پلی، نواب صاحب کنٹہ، شاہین نگر، اسمعیل نگر اور دیگر محلہ جات اس بات کے متقاضی ہیں کہ یہاں پر بچوں کی کثیر تعداد جو تعلیم سے محروم ہے اور ان بستیوں میں دورہ کرتے ہوئے تعلیم کی افادیت سے واقف کرواتے ہوئے اس کی اہمیت کو واضح کیا جائے۔ اس موقع پر جناب ظہیر الدین علی خاں نے اقامتی اسکولس میں جو سہولیات بلڈنگ، کتابیں، کاپیاں اور سالانہ اخراجات پر مبنی ورقیہ حوالے کئے جسے محلہ جات میں تقسیم کیا جائے گا۔ جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ سے اس وفد نے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ یقیناً ریاستی حکومت نے اقلیتی اسکولس کی بنیاد ڈالی ہے جس پر ہماری ذمہ داری ہے کہ والدین کو اس طرف متوجہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو داخلہ دلوائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر اس سلسلہ میں سنجیدہ ہو تو انٹر میڈیٹ سطح پر لے جایا جاسکے گا۔ شہر سے زیادہ اضلاع میں طلباء اور والدین میں ذوق و شوق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہیئے کہ بی سی کمیشن کے قیام کے ذریعہ فوری طور پر مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات دیئے جائیں اس کے  لئے صرف حکومت کا وعدہ کچھ کام نہیں آئے گا۔ جناب محمد اسمعیل الرب انصاری نے کہا کہ اقامتی اسکولس میں طلباء کے داخلوں کے لئے رائے عامہ کو ہموار کیا جائے گا اور والدین و سرپرستوں کو ترغیب دی جائے گی کہ وہ داخلوں میں لاپرواہی کا مظاہرہ نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے اس دوروں کے موقع پر محلہ جات میں ائمہ و مؤذنین اور ذی اثر شخصیات ، بزرگ، خواتین بالخصوص سماجی کارکنان سے ملاقات کرتے ہوئے اس سلسلہ میں تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ رب کائنات دونوں جہاں میں اجر سے سرفراز کرے۔ سماجی کارکن محترمہ رانی نے ’سیاست‘ کی جانب سے تعلیمی، سماجی اور روزگار سے نوجوانوں کو مربوط کرنے کیلئے جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کی سراہنا کی اور کہا کہ اقلیتی طلباء کے اقامتی اسکولس میں داخلوں کے لئے جو کوشش کی جارہی ہے وہ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس موقع پر سید مصطفے محمود، محمد شعیب رکن کمیٹی مسجد رحمت عالم، ڈاکٹر منور سلطانہ صدر حیدرآباد مہیلا منڈل، محمد طالب آفریدی پرنسپل ویسٹرن انٹر نیشنل اسکول، سید انور محی الدین کسٹم آفیسر، ساکشی اگروال، فضیلت بیگم، نیہا بیگم، حسنیٰ نیلوفر، ماسٹر محمد اسلم و دیگر سماجی کارکن موجود تھے۔ اس موقع پر سماجی کارکن امام تحسین نے کہاکہ پرانے شہر میں محلہ واری سطح پر گھر گھر جاکر والدین کو ترغیب دیں اور داخلہ دلوائیں۔

TOPPOPULARRECENT