Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں داخلہ تاریخ میں 28 مئی تک توسیع

اقامتی اسکولس میں داخلہ تاریخ میں 28 مئی تک توسیع

27807 درخواستیں ، 11,072 مسلم امیدوار ، مسلم اقلیتوں کے لیے 75 فیصد کوٹہ مختص
حیدرآباد۔ 23۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں جون سے قائم ہونے والے 71 اقلیتی اقامتی اسکولس میں داخلے کیلئے آن لائین رجسٹریشن کی تاریخ میں 28 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ آج ختم ہورہی تھی۔ تاہم اسکولوں سے متعلق سوسائٹی کے حکام نے تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کیا تاکہ مزید اقلیتی طلبہ اپنے نام رجسٹرڈ کرواسکیں۔ 71 اقامتی اسکولس میں 39 لڑکوں کیلئے اور 32 لڑکیوں کیلئے قائم کئے جارہے ہیں، جس کے لئے عمارتوں کے انتخاب کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ آن لائین رجسٹریشن کی تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی جاچکی ہے۔ اگرچہ اسکولوں میں درکار تعداد سے کہیں زیادہ رجسٹریشن ہوچکے ہیں لیکن مزید تاریخ میں توسیع کے ذریعہ مستحق اور اہل طلبہ کے داخلہ کو یقینی بنانا ہے۔ آج شام تک آن لائین رجسٹریشن کے تحت 27807 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ درخواستوں کے ادخال میں مسلم اقلیت سے زیادہ غیر اقلیتی طلبہ کو زائد داخلوں کا رجحان برقرار ہے۔ ابھی تک 11072 مسلم اقلیت کے طلبہ نے آن لائین رجسٹریشن کروایا جبکہ  غیر اقلیتی طلبہ کی تعداد 16738 ہے۔ حکومت نے ان اسکولوں میں اقلیتوں کیلئے 75 فیصد اور غیر اقلیت کیلئے 25 فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے۔ اس رجحان کو دیکھتے ہوئے امیدواروں کے انتخاب میں سوسائٹی کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مسلم اقلیت کے علاوہ کرسچن طبقہ کے 302 ، سکھ طبقہ کے 18 ، بدھسٹ طبقہ کے 2 اور جین طبقہ سے صرف ایک درخواست داخل کی گئی ہے۔ ایس سی طبقہ کی 5857 ، ایس ٹی 3544 ، او سی 440 ، بی سی 6577 درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ درخواستیں 4893 محبوب نگر سے داخل کی گئیں جبکہ سب سے کم 1721 حیدرآباد سے داخل ہوئی ہیں۔ اسی دوران اسکولوں میں پرنسپل اور اساتذہ کے تقررات کے سلسلہ میں سوسائٹی نے ذمہ داری اگرچہ ضلع کلکٹرس کو دی ہے تاہم سوسائٹی میں مختلف سطح پر زبردست سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ سوسائٹی سے وابستہ ریٹائرڈ اور غیر سرکاری اداروں کے افراد بڑے پیمانہ پر سفارشات کے ذریعہ اپنی پسند کے افراد کے تقررکو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا جارہاہے کہ ریٹائرڈ پرنسپلس کے تقررات میں کئی ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جارہی ہیں جن کی عمر کافی ہوچکی ہیں اور وہ 240 طلبہ پر مشتمل اسکول کے پرنسپل کی حیثیت سے مستعدی کے ساتھ فرائض انجام سے قاصر ہیں۔

اساتذہ کے تقررات میں بھی میرٹ سے زیادہ سفارشات اور پیروی کی شکایات ملی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف سطح پر درخواستوں کو حاصل کرتے ہوئے تقررات کیلئے رقومات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ بعض امیدواروں نے شکایت کی کہ سوسائٹی میں تقررات کیلئے نہ صرف حیدرآباد بلکہ اضلاع میں کئی ٹولیاں سرگرم ہوچکی ہیں۔ ان میں بعض سوسائٹی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں جو سوسائٹی کے نائب صدرنشین ہیں، انہیں اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ عبدالقیوم خاں نے شادی مبارک اور دیگر اسکیمات میں بے قاعدگیوں کو روکنے کیلئے اینٹی کرپشن بیورو کی ٹیموں کو متحرک کیا تھا۔ اسی طرح سوسائٹی کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے علحدہ ٹیم متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ امیدواروں نے شکایت کی ہے کہ سوسائٹی سے وابستہ افراد میرٹ کے بجائے اپنے قریبی افراد کے تقررات عمل میں لا رہے ہیں، جس سے اسکولوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی مشکل ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپیوٹرس ، پرنٹرس اور اسکولوں کیلئے درکار دیگر ضروری سامان کی خریدی کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں کی گئی اور نہ ہی کوٹیشن طلب کئے گئے ۔ اسکولوں کی تشہیر کیلئے بڑے پیمانہ پر شائع کیا گیا پبلسٹی میٹریل حج ہاؤز میں پڑا ہوا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں پوسٹرس اور پمفلٹس آئندہ چند دنوں میں ردی کی نذر ہوجائیں گے۔ اس طرح مختلف ضروریات کی تکمیل کے سلسلہ میں بڑے پیمانہ پر بجٹ خرچ کئے جانے کی بھی شکایات ملی ہیں۔ سوسائٹی میں شامل افراد میں تال میل کی کمی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT