Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس میں داخلے کے لیے 15 مئی آخری تاریخ

اقامتی اسکولس میں داخلے کے لیے 15 مئی آخری تاریخ

دیگر طبقات سے زائد درخواستیں، اقلیتوں میں شعور بیداری کا فقدان
حیدرآباد۔ 9۔ مئی  (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کیلئے آئندہ ماہ جون سے 71 اقامتی اسکولس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے اور ان اسکولوں میں بیک وقت 17,000 طلبہ کے داخلوں کی ضرورت ہے۔ تاہم آج تک 4,500 طلبہ نے ہی داخلہ کیلئے آن لائین رجسٹریشن کیا ہے۔ درخواستوں کے ادخال کا 23 اپریل سے آغاز ہوا تھا اور 15 مئی آخری تاریخ ہے لیکن اقلیتوںکی جانب سے اسکولوں میں داخلہ کیلئے حوصلہ افزاء ردعمل نہ ہونے کے سبب عہدیدار الجھن کا شکار ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ 75 فیصد نشستیں اقلیتی طلبہ کیلئے مختص ہونے کے باوجود دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والوں نے زائد درخواستیں داخل کی ہیں۔ اقلیتی طبقات میں سکھ، پارسی ، بدھسٹ اور جین طبقات سے ایک بھی درخواست داخل نہیں کی گئی جبکہ کرسچین طبقہ سے 32 درخواستیں داخل کی گئیں۔ آج تک کی جملہ داخل کردہ 4512 درخواستوں میں 2128 درخواستیں ہی مسلم اقلیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ مسلمانوں میں دیگر طبقات (او سی) کے 429 ، بی سی اے 17 ، بی سی بی 165 اور بی سی ای 1517 درخواستیں آن لائین داخل کی گئیں۔ دیگر اکثریتی طبقات میں ایس سی ، طبقہ کے 750 ، ایس ٹی 628 ، او سی 80 اور بی سی طبقہ کے 894 طلبہ نے آن لائین درخواستیں داخل کیں۔ اس طرح مجموعی درخواستوں میں 50 فیصد سے زائد ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی درخواستیں شامل ہیں۔ اقلیتوں میں داخلوں سے متعلق شعور بیداری کی کمی کے سبب کم درخواستیں داخل ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع اور شہر حیدرآباد میں بھی اقلیتوں کو اقامتی اسکولس میں داخلہ کے سلسلہ میں ترغیب دینے کے لئے کوئی منظم مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔ اقلیتی اسکولوں سے متعلق سوسائٹی کے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ درخواستیں ضلع نلگنڈہ سے داخل کی گئیں جہاں سے جملہ 829 درخواستیں وصول ہوئی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان درخواستوں میں اقلیت سے زیادہ اکثریتی طبقہ کی درخواستیں ہیں۔ حیدرآباد سے 364 درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ محبوب نگر 774 ، رنگا ریڈی 341 ، میدک 402 ، نظام آباد 110 ، عادل آباد 561 ، کریم نگر 366 ، ورنگل 396 اور کھمم 369 درخواستیں شامل ہیں۔ ان اسکولوں میں پانچویں تا ساتویں جماعت تک کلاسس کا اہتمام کیا جائے گا اور ہر کلاس میں 40 طلبہ پر مشتمل 2  سیکشن ہوں گے ۔ اس طرح ہر اسکول میں 240 طلبہ کی ضرورت پڑے گی۔ مجموعی طور پر17040 طلبہ کا داخلہ ضروری ہے۔ یہ نہ صرف سوسائٹی بلکہ خود اقلیتوں کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔  حکومت نے 71 اسکولوں میں طلبہ کیلئے 39 اور طالبات کیلئے 32 اسکولس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی اضلاع میں عمارتوں کی تیاری کا کام ابھی باقی ہے ۔ عمارت کے مالکین سے کرایہ کے مسئلہ پر مشاورت جاری ہے اور کرایہ نامے طئے کرنے کی ذمہ داری ضلع کلکٹرس کو دی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT