Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولس کے قیام کی اسکیم کو گنیز بک میں شامل کروانے پر غور

اقامتی اسکولس کے قیام کی اسکیم کو گنیز بک میں شامل کروانے پر غور

مختصر عرصہ میں 206 اسکولس کا قیام ۔ 48000 اقلیتی طلبا زیر تعلیم ۔ سکریٹری سوسائیٹی بی شفیع اللہ کا بیان
حیدرآباد ۔ 26۔ ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے اقامتی اسکولوں کے قیام کی جو اسکیم شروع کی ہے، اسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ 18 ماہ کے مختصر عرصہ میں اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی نے کامیابی کے ساتھ 206 اقامتی اسکول قائم کئے ہیں جن میں 48000 اقلیتی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ حکومت کی جانب سے اس قدر کم وقت میں 206 اقامتی اسکول قائم کئے گئے ہوں۔ لہذا اقامتی اسکول سوسائٹی کے ذمہ داروں نے اس کارنامہ کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ سکریٹری سوسائٹی بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے بتایا کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی شرائط و اصولوں کا جائزہ لیا جارہا ہے جسکے بعد اس کارنامہ کو ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرنے درخواست داخل کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ 206 اقامتی اسکول بہتر انفراسٹرکچر اور قابل ٹیچنگ اسٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور طلبہ کا معیار بھی کافی بلند ہوا ہے۔ ٹیچنگ اسٹاف فی الوقت آوٹ سورسنگ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا جبکہ مستقل اساتذہ کے تقررات پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ انجام دیئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں 4000 نشستیں ہنوز مخلوعہ ہیں جنہیں اسپاٹ ایڈمیشن کے ذریعہ پُر کیا جائے گا ۔ شفیع اللہ نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں ساتویں جماعت تک کلاسس کا اہتمام تھا لیکن جاریہ سال آٹھویں تک کلاسس کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اقامتی اسکولوں میں بارھویں جماعت تک تعلیم کا انتظام رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے اقامتی اسکولس کا جو منصوبہ تیار کیا ہے ، وہ ان کی اقلیت دوستی کو ثابت کرتا ہے ۔ چیف منسٹر نے انہیں ایک سے زائد مرتبہ اقامتی اسکولوں کو کامیابی سے اور معیاری انداز میں چلانے کے سلسلے میں ضروری مشوروں سے نوازا ہے۔ شفیع اللہ نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کے سلسلہ میں وہ اپنی مصروفیات کے سبب اقلیتی فینانس کارپوریشن کے امور پر توجہ نہیں دے سکے لیکن اب چونکہ اسکولس قائم ہوچکے ہیں لہذا وہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر توجہ مبذول کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دو نئی اسکیمات انکے زیر غور ہیں جسکے ذریعہ غریب اقلیتوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ شفیع اللہ نے حکومت کو مائیکرو فینانسنگ کی اسکیم روانہ کی ہے ، جس کے تحت چھوٹے کاروبار کرنے والوں کو 25 ہزار روپئے تک قرض فراہم کیا جائیگا۔ اس اسکیم میں بعض غیر سرکاری اداروں کو شامل کیا جائے گا جو چھوٹے کاروبار سے متعلق سامان خرید کر حوالے کرینگے اور این جی اوز کو کارپوریشن سرویس چارجس ادا کرے گا ۔ میدک ضلع میں اس طرح کی اسکیم ایک این جی او کی جانب سے کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی واپسی کی ذمہ داری این جی اوز کی ہوگی۔ شفیع اللہ نے کہا کہ 500 بیروزگار اقلیتی نوجوانوں کو اون یوور کیاب اسکیم کے تحت گاڑیاں فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ ہر گاڑی کی قیمت 6 لاکھ روپئے ہوگی اور 50 فیصد رقم بینک سے قرض اور 50 فیصد کارپوریشن کی جانب سے سبسیڈی رہیگی ۔ اس طرح اقلیتی نوجوانوں کو صرف 50 فیصد رقم بینک کو واپس کرنی ہوگی۔ کم مدت میں یہ نوجوان گاڑی کے مالک ہوجا ئینگے ۔ اسکیم کی منظوری حکومت سے ملنے پر تفصیلات کا اعلان کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ کارپو ریشن کی جانب سے ابھی تک 2000 آٹو جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی شریف علاقہ میں 5 ایکر اوقافی اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں اسکیم ڈیولپمنٹ سنٹر قائم کیا جائیگا ۔ اس سنٹر میں ہر سال 10,000 اقلیتی امیدواروں کو مختلف پیشہ ورانہ کورسس میں تربیت دی جائیگی۔ ملک کی نامور کمپنیوں کی جانب سے ٹریننگ اور پھر بعد میں اسی کمپنی میں ملازمت کے مواقع حاصل ہونگے ۔ جی ایم آر کی ورا لکشمی فاؤنڈیشن اسکل ڈیولپمنٹ پر کامیابی سے کام کر رہی ہے۔ شفیع اللہ جو اقلیتی کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر بھی ہیں، بتایا کہ سبسیڈی اسکیم کے تحت ایک لاکھ 53 ہزار درخواستیں داخل کی گئی تھیں اور گزشتہ دو برسوں میں 20 ہزار درخواستوں کی یکسوئی کی گئی ۔ بجٹ کی اجرائی پر درخواستوں کی یکسوئی کا انحصار ہے۔ جاریہ سال حکومت نے اس اسکیم کے تحت 40 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں جس کے ذریعہ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی تک نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT