Friday , August 17 2018
Home / شہر کی خبریں / اقامتی اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات کا آغاز : اے کے خاں

اقامتی اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات کا آغاز : اے کے خاں

آئندہ تعلیمی سال انٹرنس امتحان کی تجویز ، کارکردگی پر نظر رکھنے ویجلنس آفیسر کا تقرر
حیدرآباد۔ 26 فبروری (سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ مضامین کے اساتذہ کے تقررات کا سلسلہ جاری ہے۔ سائنس اور دیگر مضامین کے اساتذہ کے تقررات کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور بہت جلد پرنسپلس کے تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے صدر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان نے آج سوسائٹی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تعلیم کے علاوہ طلبہ کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور اسکول بلڈنگس کی تعمیر پر خصوصی توجہ دیں۔ 64 اسکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں توسیعی کاموں کی ضرورت ہے۔ ان اسکولوں میں گنجائش کی کمی کے سبب طلبہ کو مشکلات کا سامنا تھا۔ اے کے خان نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ جلد از جلد توسیعی کام کی تکمیل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اقامتی اسکولوں میں داخلوں کے سلسلہ میں انٹرنس امتحان کے انعقاد کی تجویز زیر غور ہے۔ آئندہ تعلیمی سال داخلوں کے سلسلہ میں درخواستوں کی تعداد اور اقلیتوں میں رجحان کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنس امتحان کا مقصد اہل اور قابل طلبہ کے داخلوں کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے طلبہ کا انتخاب ہوگا جو تعلیم کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہوں ۔ انٹرنس ٹسٹ کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ داخلوں سے قبل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں 90 فیصد طلبہ کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے اور سوسائٹی ان کی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ اور کارپوریٹ اسکولوں کے معیار کے مطابق تیار کرنا چاہتی ہے۔ اے کے خان نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اقلیتوں کے لیے 206 اقامتی اسکولوں کے ذریعہ تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک تمام اسکولوں کی ذاتی عمارتیں تعمیر نہیں ہوجاتیں اس وقت تک مسائل کی یکسوئی نہیں ہوگی۔ اے کے خان نے کہا کہ سوسائٹی میں جن اساتذہ کا تقرر کیا جارہا ہے ان کے لیے ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ وہ بہتر انداز میں تدریسی صلاحیت کا مظاہرہ کرسکیں۔ ایک سوال کے جواب میں اے کے خان نے کہا کہ 206 اقامتی اسکولوں کا انتظام چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ سسٹم میں بعض خامیاں ضرور ہیں جنہیں دور کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال عدم کارکردگی کی صورت میں بعض عہدیداروں کو سوسائٹی سے علیحدہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈی سی پی رتبہ کے عہدیدار کو سوسائٹی کی ہیڈ آفس میں ویجلنس آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ریاست کے تمام مدارس کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے۔ اس کے علاوہ علاقائی سطح پر ویجلنس آفیسرس مقرر کیے جائیں گے جو کسی بھی بے قاعدگی کی صورت میں کارروائی کے مجاز ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو کو بھی بے قاعدگیوں کی جانچ کے سلسلہ میں ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ اے کے خان نے کہا کہ جہاں کہیں وہ دورے پر جاتے ہیں اولیائے طلبہ اسکولوں کے بہتر انتظام کی ستائش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں میں تعلیمی رجحان میں اضافہ اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کا حوصلہ افزاء رجحان باعث خیرمقدم ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔ کیٹرنگ سے متعلق عارضی اسٹاف کے احتجاج پر اے کے خان نے بتایا کہ جو ملازمین احتجاج کررہے ہیں ان کا سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ سوسائٹی نے جس ادارے کو کیٹرنگ کی ذمہ داری دی تھی اس کی خدمات توقع کے مطابق نہ ہونے کے سبب معاہدے کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی خانگی ادارے کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اسکول میں پرنسپل کی راست نگرانی میں کیٹرنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اسکول میں مقررہ مینوں کے مطابق طلبہ کو کھانا اور دیگر اشیاء سربراہ نہیں کی جائیں گی تو اسکول کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT