Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقبال شانہ اور ڈاکٹر ممتاز مہدی کی تصانیف کی رسم رونمائی و مزاحیہ مشاعرہ

اقبال شانہ اور ڈاکٹر ممتاز مہدی کی تصانیف کی رسم رونمائی و مزاحیہ مشاعرہ

حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( راست ) : زندہ دلان حیدرآباد کے جلسہ رونمائی میں حیدرآباد کے زندہ دلوں نے زندہ دلی کا بھر پور ثبوت دیا ۔ جلسہ میں شریک بلا تخصیص عمر ، خواتین و حضرات نے خوشی کے لمحے سمیٹتے ہوئے جلسہ کو کامیاب اور یادگار بنادیا ۔ میڈیا پلس آڈیٹوریم عابڈز کے در و دیوار طنزو مزاح کی نئی امنگوں کو جگانے والی شام کے گواہ بن گئے ۔ ابتداء میں واحد نظام آبادی نے اقبال شانہ کی شخصیت اور فن کو گویا کوزے میں سمو دیا اور بھر پور واہ واہی بٹوری ۔ اقبال شانہ کے مزاحیہ مجموعہ کلام کی رسم اجراء ڈاکٹر سید مصطفی کمال نے انجام دی ۔ کمال صاحب نے اقبال شانہ کی شاعری میں موضوعات کی فراوانی کو داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں نثر کے مقابلے میں نظم میں موضوعات بہت زیادہ ملتے ہیں ۔ ڈاکٹر ممتاز مہدی کے ہاں مزاح کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ انکی نظریں تیز اور مشاہدہ غیر معمولی ہے ۔ انہوں نے پروفیسر حبیب نثار کے علمی ، تحقیقی اور تنقیدی کارناموں کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا ۔ ڈاکٹر مصطفی کمال نے ماضی کے جھرونکوں میں جھانکتے ہوئے حلف جیسی ادبی تنظیموں کو یاد کیا اور مشورہ دیا کہ انہیں خطوط پر ادبی محافل کا احیاء کیا جانا چاہئے ۔ پروفیسر حبیب نثار نے ڈاکٹر ممتاز مہدی کی نثری مزاحیہ تصنیف ’ الٹی گنگا ‘ کی رسم اجراء انجام دی ۔ اقبال شانہ اور ڈاکٹر ممتاز مہدی کی شخصیات اور فنی خوبیوں کا جائزہ لیا ۔ ممتاز مہدی کے ایک مضمون ’ اکیسویں صدی ‘ میں موجود ان کی الہامی تحریروں پر حیرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ ممتاز مہدی کی دیگر تین تصانیف اشاعتی سرگرمیوں کے آخری مراحل میں ہیں ۔ ڈاکٹر حبیب نثار نے ڈاکٹر سید مصطفی کمال کی طنز و مزاح کی پچاس سالہ خدمات کو خراج تحسین ادا کیا اور اپنی تحقیقی مصروفیتوں سے بھی واقف کروایا ۔ جلسہ کے بعد مشاعرہ منعقد ہوا ۔ ہر دو محافل کی صدارت ڈاکٹر محمد علی رفعت نے انجام دی ۔ شاعروں نے خوب رنگ جمایا اور جی بھر کے ہنسایا ۔ مشاعرے میں مسرز سید محمود الحسن ہاشمی ، ڈاکٹر معین امر بمبو ، محمد سلیم حسرت ، سردار اثر ، ڈاکٹر محمد علی رفعت ، فرید سحر ، اقبال شانہ اور ڈاکٹر علیم خاں فلکی نے حصہ لیا ۔ ڈاکٹر علیم خاں فلکی نے جلسہ اور مشاعرے کی نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ از ابتداء تا آخر سامعین کو اپنے شگوفوں کی بوچھار اور شگفتہ بیانی کے ذریعہ باندھے رکھا اور جلسہ و مشاعرے کو کامیاب منزلوں سے ہمکنار کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT