Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اقبال عبداللہ کا کلیدی مظاہرہ قومی میڈیا نے کیا نظرانداز

اقبال عبداللہ کا کلیدی مظاہرہ قومی میڈیا نے کیا نظرانداز

حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی (سیاست نیوز) گزشتہ رات بنگلور کے ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل کا پہلا کوالیفائینگ فائنل مقابلہ میزبان رائل چیلنجز س بنگلور اور گجرات لائینس کے درمیان کھیلا گیا جس کا سنسنی خیز اختتام بنگلور کی کامیابی پر ہوا۔ اس مقابلہ میں کپتان ویراٹ کوہلی نے ٹاس جیت کر گجرات کو بیٹنگ کیلئے دعوت دی اور اسے 158 رنز تک محدود رکھا۔ شاندار فارم میں موجود بنگلور کے لئے یہ نشانہ بظاہر آسان دکھائی دے رہا تھا لیکن گجرات کے بولر دھول کلکرنی نے پہلے اسپیل میں شاندار فارم میں موجود ویراٹ کوہلی (0 ) ، کرس گیل (9) ، کے ایل راہول (0 ) اور سچن بیبی (0 ) کو پویلین لوٹاتے ہوئے بنگلور کو 29/5 کی نازک صورتحال پر پہنچادیا تھا ۔ اس موقع پر اے بی ڈیویلیئرس اور اقبال عبداللہ کے درمیان ساتویں وکٹ کیلئے ناقابل تسخیر 91 رنز کی پارٹنرشپ بنی جس نے گجرات کے منہ سے کامیابی چھینتے ہوئے بنگلور کو فائنل میں پہنچادیا۔ ڈیویلیئرس نے 47 گیندوں میں 5 چوکوں اور 5 چھکوں پر مشتمل اپنی اننگز میں ناقابل تسخیر 79 جبکہ عبداللہ نے 25 گیندوں میں 3 چوکوں اور ایک چھکے پر مشتمل اننگز میں  غیر مفتوح 33 رنز اسکور کئے ۔ اس کامیابی کے بعد جہاں ڈیویلیئرس کی چاروں گوشوں سے واہ واہ ہوئی ، وہیں ٹیم کو فائنل میں پہنچانے میں کلیدی رول ادا کرنے والے اقبال عبداللہ کے آل راؤنڈ مظاہرہ کو قومی میڈیا میں یکسر نظر انداز کردیا جو کہ مایوس کن نتیجہ رہا۔ بنگلور کی کامیابی میں عبداللہ نے انتہائی اہم رول ادا کیا کیونکہ پہلے انہوں نے بولنگ میں اننگز کا دوسرا ہی اوور ڈالتے ہوئے حریف اوپنرس آرون فنچ (4) اور برینڈن مکالم (1) کو نہ صرف پویلین کی راہ دکھائی

 

بلکہ 6 رنز کے مجموعی اسکور پر دو خطرناک اوپنرس کو آؤٹ کیا۔ بعد ازاں جس وقت بنگلور کی ٹیم نشانہ کے تعاقب میں 68/6 کی نازک صورتحال سے پریشان تھی اور شکست کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے تھے، اس موقع پر عبداللہ نے پہلے وکٹ پر خود کو ڈیویلیئرس کے ساتھ بچائے رکھا اور پھر جس وقت ان کی نظر وکٹ پرجمی تو انہوں نے تیزی کے ساتھ رنز اسکور کرتے ہوئے سینئر ساتھی کھلاڑی ڈیویلیئرس پر سے دباؤ بھی کم کیا۔ بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں انتہائی شاندار اور کلیدی کردار ادا کرنے کے باوجود عبداللہ کا نام دوسرے دن ملک کے کئی اہم انگریزی اخباروں نے نظر انداز کردیا اور سبھی نے ڈیویلیئرس کی تعریف میں شہ سرخیاں لگائیں ۔ صرف ایک انگریزی اخبار نے اپنی ذیلی سرخی میں عبداللہ کا نام تحریر کیا۔ علاوہ ازیں کرکٹ کی مشہور ویب سائیٹ نے بھی اپنی تنگ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے بنگلور کی کامیابی کیلئے استعمال ہونے والی سرخی میں صرف ڈیویلیئرس کو مرد بحران اور ٹیم کو بچانے والا کھلاڑی تحریر کیا۔ عبداللہ نے جس شاندار مظاہرہ کے ذریعہ اپنی صلاحیتوں اور دباؤ کے لمحات میں مضبوط ذہن کے حامل کھلاڑی ہونے کا میدان پر ثبوت دیا ویسے ہی دوسرے دن قومی میڈیا نے اپنی تنگ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے اس اقلیتی کھلاڑی کو نظر انداز کردیا اور جس طرح عبداللہ کو قومی میڈیا خاص کر انگریزی میڈیا کی جانب سے پذیرائی ملنی چاہئے تھی ، وہ نہیں ملی جس نے کروڑہا شائقین کو مایوس کرنے کے علاوہ انگریزی میڈیا کی غیر جانبداری پر پہلے ہی سے موجود سوالیہ نشان کو مزید گہرا کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT