Monday , June 25 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اقتدار کا استحکام، وعدوں کی تکمیل پر منحصر

اقتدار کا استحکام، وعدوں کی تکمیل پر منحصر

تلنگانہ عوام کی امیدوں کو پورا کرنا کے سی آر کے لئے ضروری

تلنگانہ عوام کی امیدوں کو پورا کرنا کے سی آر کے لئے ضروری

نرمل /25 مئی (سید جلیل ازہر کی رپورٹ) یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقتدار منتقل نہیں ہوتا، بلکہ سرکاری ملازمت منتقل ہوتی ہے۔ آج کا رائے دہندہ اس قدر باشعور ہو چکا ہے کہ وعدوں کی سیاست کے ذریعہ حصول اقتدار کے بعد وعدوں سے منحرف ہونے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ حالیہ منعقدہ انتخابی نتائج نے ہر سیاسی جماعت کی آنکھ کھول دی ہے۔ آج ریاست ہی نہیں ملک کی سیاست کا پس منظر ہر ہندوستانی دیکھ رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کی وجہ سے مودی کا جادو تلنگانہ میں نہیں چل سکا۔ عوام نے کے سی آر کو ان کی جدوجہد اور انتخابی وعدوں کے تناظر میں جو کامیابی انھیں بخشی ہے، اس کو تلنگانہ راشٹریہ سمیتی فراموش نہیں کرسکتی، بلکہ اب اقتدار کی منزل پر پہنچنے کے بعد اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس علاقہ کے تمام طبقات اسے اقتدار حوالے کیا ہے، لہذا اب وہ اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لئے تیار ہو جائے، کیونکہ بلندیوں پر پہنچنا آسان ہے،

لیکن بلندیوں پر ٹھہرنا کمال ہے۔ آج علاقہ تلنگانہ کے عوام کو کے سی آر سے کئی امیدیں وابستہ ہیں، بالخصوص اقلیتی طبقہ جس کے ساتھ ہر جماعت نے ناانصافی کی ہے اور کبھی بھی اضلاع سے اقلیتی قائدین کی ریاستی سطح پر رسائی میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہی ہیں، لیکن کے سی آر نے ہر طبقہ کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کے جائز حقوق کو دلوانے کا اپنی ہر تقریر میں وعدہ کیا ہے۔ نئی ریاست میں اقلیتوں کے تناسب کے لحاظ سے ریاستی کابینہ میں کم از کم چار مسلم وزراء ہونے چاہئے، تاہم اس وقت ضلع نظام آباد سے محمد شکیل عامر حلقہ اسمبلی بودھن سے کانگریس کے ایک مضبوط قائد کو شکست دے کر ریاستی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کے باوجود ایک مسلم واحد رکن اسمبلی کا انتخاب اس جماعت کے لئے ایک اعزاز ہے اور ریاست کے نتائج اقلیتوں کے اتحاد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ملک کے رائے دہندوں نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بتادیا کہ انسان کے ہاتھوں کی لکیریں سیاسی مقدر نہیں ہوتیں، بلکہ رائے دہندوں کے ذریعہ سیاسی انقلاب برپا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی اقلیتوں بالخصوص تمام جماعتوں کے مسلم قائدین کے لئے کسی ایک سیاسی پلیٹ فارم کا انتخاب بے حد ضروری ہے۔ اقلیتی قائدین اگر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اتحاد کا ثبوت دیں تو اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلم نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں مسلم ارکان پارلیمنٹ کی تعداد میں کمی ہمارے انتشار کا ثبوت ہے، لہذا ہمیں ان نتائج کو ذہن میں رکھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT