Wednesday , September 19 2018
Home / سیاسیات / اقتدار کی مرکوزیت کے خلاف انتباہ،مودی کا ہٹلر سے تقابل

اقتدار کی مرکوزیت کے خلاف انتباہ،مودی کا ہٹلر سے تقابل

ممبئی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے احساس ظاہر کیا کہ ’’اقتدار کی مرکوزیت ‘‘ کے ہندوستانی جمہوریت کے حق میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ بی جے پی کے وزار عظمی کے امیدوار نریندر مودی نے پارٹی کے کنہ مشق قائدین جیسے لعل کرشن اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی اور جسونت سنگھ کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے

ممبئی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے احساس ظاہر کیا کہ ’’اقتدار کی مرکوزیت ‘‘ کے ہندوستانی جمہوریت کے حق میں سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ بی جے پی کے وزار عظمی کے امیدوار نریندر مودی نے پارٹی کے کنہ مشق قائدین جیسے لعل کرشن اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی اور جسونت سنگھ کو بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے شدید احساس ظاہر کیا کہ مودی کانگریس سے پاک ہندوستان کے نعرہ کی تشہیر کررہے ہیںجس سے ہر شخص دہل کر رہ گیا ہے ۔ بی جے پی قائد پیش قیاسی کررہے ہیں کہ لوک سبھا انتخابات نہرو ۔ گاندھی خاندان کے اختتام کے نقیب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاندان ملک کے اتحاد کی نمائندہ علامت ہے ۔ پوار نے مودی کا تقابل نازی ڈکٹیٹر اڈالف ہٹلر سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے ہاتھوں میں اقتدار کی مرکوزیت دیکھ چکے ہیں وہ بھی جمہوری طور پر منتخب ہوا تھا لیکن اقتدار کی مرکوزیت کا نتیجہ پوری دنیا نے دیکھ لیا۔ اس نے یہودیوں کا خاتمہ کردیا اور دیگر لوگوں پر حملے کئے۔اقتدار کا استحصال کیا ۔ آج اڈوانی جوشی اور جسونت سنگھ جیسی نامور شخصیتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے اور یہ صرف آغاز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نہرو ۔

گاندھی خاندان سے پاک ہندوستان کا نعرہ خود بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار پر الٹ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ہندوتوا لب و لہجہ نرم ہوگیا ہے اس کے باوجود وہ تمام طبقات کو اپنے ساتھ لیکر نہیں چل سکتی ۔ اس کے انتخابی منشور میں رام مندر ،یکساں سیول کورٹ اور دستور کی دفعہ 370 جیسے حساس مسائل شامل ہیں۔ بی جے پی ایک بار برسر اقتدار آجائے تو وہ بالکل بدل جائے گی۔ عوام کو اس بات پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے ۔ وہ متنازعہ مسائل کو دوبارہ چھیڑ سکتی ہے ۔ اوپنین پول میں بی جے پی اور این ڈی اے کی یو پی اے پر برتری کے تبصروں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ 2004 کے اوپنین پولس دیکھ لیں۔ واجپائی 6 سال تک برسر اقتدار رہے تھے اور ان کے بارے میں عوام میں بہت اچھا احساس تھا ،ہندوستان چمک رہا تھا لیکن انتخابی نتائج مختلف نکلے ۔ ایمرجنسی کی برخواستگی کے بعد این ڈی اے کے جلسوں میں عوام کا ہجوم تھا لیکن عوام نے این ڈی اے کو شکست دے دی ۔ مسز اندرا گاندھی نے جب ایمرجنسی کے نفاذ پر برسر عام معذرت خواہی کرلی اور جنتا دل حکومت کی کارکردگی نہیں کے برابر تھی تو ان ہی عوام نے جنہوں نے ہمیں قطعی اکثریت دی تھی، شکست دے دی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہم سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ وہ ہمیشہ ملک کے بارے میں سونچتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT