Thursday , December 14 2017
Home / مذہبی صفحہ / اقراء ۔ اسلام کا پیغام ساری انسانیت کے نام

اقراء ۔ اسلام کا پیغام ساری انسانیت کے نام

 

مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی
مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ
۵۷۱ء بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انسانیت کی کشتی حیات ظلم و جہالت کے قلزم میں ہچکولے کھارہی تھی۔ خود عرب کی سرزمین پر جہاں آپ کی بعثت ہوئی جہالت اپنے عروج پر تھی ایسے واقعات عام ہوچکے تھے جنہیں آج بھی ہر معاشرہ اپنی پیشانی پر بدنما داغ تصور کرتا ہے۔ اخلاقی پستی اور ظلم و زیادتی کے اس دور میں گھناؤنے جرائم پر بھی احساس ندارت کے بجائے فخر کا اظہار کیا جاتا تھا۔ انفرادی اور اجتماعی اعتبار سے پورے عرب میں بدکاریوں اور برائیوں کو علانیہ فروغ دیا جارہا تھا۔ منشیات، زنا، جوا، جھوٹ، لوٹ، کھسوٹ نے عام لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی اور معاشرہ میں کمزوروں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ حق و صداقت اور دیانتداری جیسے اوصاف کا دور دور تک نشان نہیں تھا۔ مجموعی طور پر اس درجہ ابتر تھی کہ انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی تھی اور اسے یقینی تباہی سے نجات دلانے کے لیے کسی محسن انسانیت کی آمد ضرور تھی۔ ایسے حالات میں نبی اکرم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کے مسیحا بن کر تشریف لائے اور اپنی بعثت کے ساتھ ہی علم کی اہمیت و فضیلت کا پرچم بلند کرکے جہالت و ناخواندگی کے اندھیروں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔
قرآن مجید کی پہلی آیات طیبات الٰہیات و اخلاقیات فلسفہ اور سائنس کا پیغام لے کر نازل ہوئیں۔
اقراء باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقراء و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔
پہلی آیت نے اسلامی الٰہیات و اخلاقیات کی علمی بنیاد فراہم کی۔ دوسری آیت نے بیالوجی اور ایمبریالوجی کی سائنسی اساس بیان کی۔ تیسری آیت نے انسان کو اسلامی عقیدہ و فلسفہ کی طرف متوجہ کیا۔ چوتھی آیت نے فلسفہ علم و تعلیم اور ذرائع علم پر روشنی ڈالی اور پانچویں آیت نے علم و معرفت، فکر و فن اور فلسفہ و سائنس کے تمام میدانوں میں تحقیق و جستجو کے دروازے کھول دیئے۔
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے ذریعہ انسانیت کو حقائق کے تجزیہ و تعلیل کا مزاج دیا اور علم و فن کی ایسی سرپرستی فرمائی کہ اُمّی قوم تھوڑے ہی عرصہ میں پوری دنیا کے علوم و فنون کی امام و پیشوا بن گئی اور مشرق و مغرب میں علم و اخلاق اور فلسفہ و سائنس کی روشنی پھیلنے لگی۔ عرب و عجم اقراء کے نور سے چمکنے لگے۔
سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس احسان کا بدلہ انسانیت قیامت تک چکا نہیں سکتی۔ آج دنیا میں جس قدر علمی و فکری اور ثقافتی و سائنسی ترقی ہوئی یا ہوگی یہ سب اسی احسان محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا نتیجہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد بعثت اور طرز تربیت میں عالم انسانیت کو صرف عقیدہ توحید و رسالت کے مذہبی و روحانی و اعتقادی و اخلاقی پہلوؤں سے ہی شناسا و آراستہ کرنا نہیں تھا بلکہ انہیں علم و دانش اور حکمت و دانائی کی دولت سے نوازنا بھی تھا اور اقراء اسی کا نقطہ آغاز تھا۔
روشنی کے جس سفر کا آغاز حراء میں لفظ اقراء کے نزول سے ہواتھا وہ سفر آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ اسلام نے جہالت کے اندھیروں کے خلاف جنگ کرکے ذہن انسانی کو شعور و آگہی کا چراغ جلانے کا عنصر سنبھالا تھا وہ اولاد آدم کے وقار و عزت کی بازیابی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور آج تہذیب انسانی کی ساری روشنیاں، علم جدیدہ کی ساری توانیاں اورتحقیق و جستجو کی ساری رعنائیاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دہلیز پر کاسہ لئے ٹہری ہیں۔ اقراء کا نور ایسی روشنی فراہم کرتا ہے جو ذہن انسانی کو علم و عرفان اور شعور و آگہی کے سرمدی اجالوں سے منور کرتی ہے، اقراء کا شعور تمیز و خیر و شر عطا کرتا ہے۔ اقراء ذہن کے مقفل دروازوں کو کھولتا ہے۔ اقراء ایک ایسا مینارۂ نور ہے جس کی روشنی میں نسل انسانی تہذیبی، تمدنی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی طور پر آگے بڑھتی ہے اور ستاروں پر کمند ڈالتی ہے۔ اقراء کا فیض فکر میں وسعت پیدا کرتا ہے حقوق و فرائض کا ادراک حاصل ہوتاہے۔

ذہن و دل سے جہالت کے جالے کٹ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غار حرا سے جنگ بدر کے قیدیوں تک اور حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ سے لے کر آج تک اقراء کی فضیلت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کے باوجود ابھی بھی بہت سے لوگ جہالت کے اندھیروں میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمارا پیغام ہماری دعوت ان کو اقراء کے نور میں آنے کی ہے۔ کیونکہ اقراء کی دولت حین حیات اور بعد ممات بھی کام آتی ہے۔ اقرائکے حامل کا اعمال نادر روشنیوں سے تحریر کیا جاتا ہے۔ اقراء والے کے سر پر فضیلت کا تاج سجایا جاتاہے۔ اسے مسند ارشاد پر بٹھایا جاتاہے۔ معاشرے میں اس کو بلند مقام دیا جاتاہے۔
اقراء کے فیض سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و حواس دے کر اسے یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ مشاہدات اور تجربات کے ذریعہ اپنی معلومات میں اضافہ اور استحکام پیدا کرے۔ کائنات کی مختلف اشیاء کا جائزہ لے۔ زیر زمین ذخائر دریافت کرے، خلاؤں اور فضاؤں کی تحقیق کرے، سمندروں اور پہاڑوں کی تسخیر کرے، اس طرح کائنات کے تمام پوشیدہ اورعیاں اجسام اور اشیاء سے انسانوں کی فلاح و بہبود کی نئی راہیں تلاش کرے، اسلام کا نظریہ تعلیم اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اقتداراعلیٰ کی خصوصیات کے ساتھ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی، معاشی اور تہذیبی تقاضوں کا امین بھی ہے۔

اسلام کو دیگر مذاہب سے منفرد بنانے والی خصوصیت علم کا وہ نقطہ نظر ہے جو آفاقیت کے تمام تقاضوں کے ساتھ انتہائی عقل اور سائنسی اصولوں پر مبنی ہے۔ کئی صدیاں گذر جانے کے باوجود اس کی جامعیت اور ہمہ گیری میں ذرہ برابر میں فرق نہیں آیا۔ اگر کہیں نتائج کے اعتبار سے اس کے برعکس صورتحال نظر آتی ہے تو ان لوگوں کی کوتاہی ہوسکتی ہے جو اس کی تفسیر اور تشریح سے لے کر اس پر عمل درآمد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT