اقرار کی بناء پر نسب کا ثبوت

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معمر ۴۷ سال نے ایک لڑکے بکر معمر تقریباً تین ماہ سے متعلق یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ ان کا اپنا بیٹا ہے۔ اس لڑکے کا کسی اور شخص سے نسب ثابت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا شرعاً اقرار کی بناء پر بکر کا زید سے نسب ثابت ہوگا یا نہیں؟۔

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معمر ۴۷ سال نے ایک لڑکے بکر معمر تقریباً تین ماہ سے متعلق یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ ان کا اپنا بیٹا ہے۔ اس لڑکے کا کسی اور شخص سے نسب ثابت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا شرعاً اقرار کی بناء پر بکر کا زید سے نسب ثابت ہوگا یا نہیں؟۔
جواب: شرعاً کوئی شخص کسی لڑکے سے متعلق اپنا بیٹا ہونے کا اقرار کرے تو مقر (اقرار کرنے والے) سے اس لڑکے کا نسب اس شرط سے ثابت ہوگا کہ اس لڑکے میں مقر (اقرار کرنے والے) کا بیٹا ہونے کی صلاحیت ہو اور کسی دوسرے شخص سے اس کا نسب ثابت نہ ہو۔ فتاویٰ عالمگیری جلد ۴ کتاب الاقرار صفحہ ۲۱۰ الباب السابع عشر فی الاقرار بالنسب میں ہے ’’یصح اقرار الرجل بالولد بشرط ان یکون المقر لہ بحال یولد مثلہ لمثلہ وان لایکون المقر لہ ثابت النسب من غیرہ‘‘۔
پس صورت مسئول عنہا میں بکر معمر تقریباً تین ماہ کا نسب کسی اور شخص سے ثابت نہ ہونے کی وجہ زید سے بربناء اقرار ثابت ہے اور وہ ان کا بیٹا رہے گا۔

طلاق درعالم مدہوشی
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر بحالت غصہ وغیض اپنی طبیعت و مزاج کو پہچان نہ سکا، ناقابل برداشت حالت غیض میں کیفیت جنون طاری رہی ۔ حاضرین کا بیان ہے کہ بکر نے اسی حالت میں اپنی زوجہ کو تین مرتبہ طلاق بائن دیا لیکن موصوف کا کہنا ہے کہ اس وقت کیا ہوا اسکا اسکو کوئی علم نہیں ۔ نیز تین طلاق تو درکنار ایک مرتبہ بھی اس نے طلاق نہیں دی ہے ۔ لوگوں کے کہنے پر اس کو طلاق کی بات معلوم ہوئی ہے ۔ اس واقعہ کے وقت زوجہ موجود نہیں تھی اور اس کو کسی واقعہ کی اطلاع نہیں ہے ۔ ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے ؟
جواب : بشرط صحت سوال و صدق بیان مستفتی اگر شدت غضب کی کیفیت دیوانگی کی حد کو پہنچ گئی تھی نیز تمیز وعقل غائب ہوچکی تھی (اور اس کیفیت کا اقرار حاضرین کو بھی ہو ) اور اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیا الفاظ ادا کئے تو ایسی صورت میں شرعا بکر کا قول معتبر نہ ہوگا اس لئے اس کا طلاق دینا بھی معتبر نہ ہوگا ۔ وکذا یقال فیمن اختل عقلہ لکبر او مرض او لمصیبۃ فاجأ تہ فما دام فی حال غلبۃ الخلل فی الأقوال والأفعال لا تعتبر اقوالہ ۔ ردالمحتار جلد دوم ص ۶۶۰ اور فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۳۵۳ میں ہے : ولا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم وللغمی علیہ والمد ہوش ھکذا فی فتح القد یر ۔
اور اگر بکر پر ایسی کیفیت طاری نہ تھی تو بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اور دونوں میں زوجیت کا تعلق بالکل منقطع ہوگیا اب دونوں بغیر حلالہ جدید نکاح بھی کرسکتے ۔

مسجد کی دیوار سے استفادہ کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی مسجد کی دیوار پر دیوار اٹھاکر اپنے مکان کی چھت ڈالے اور مکان بنائے تو شرعاً کیا حکم ہے؟۔ اس طرح تعمیر ہو جانے کے بعد دیوار کی علحدگی صاحب خانہ کے لئے نقصان کا باعث ہوسکتی ہے؟۔ انتظامی کمیٹی صاحب خانہ کو اپنی دیوار مسجد کی دیوار سے علحدہ کرنے کے لئے کہہ سکتی ہے یا نہیں؟۔ اگر خاموشی اختیار کی جائے تو کمیٹی کے ذمہ دار گنہگار ہوں گے یا نہیں؟۔
جواب: مسجد کی تعمیر ہو جانے کے بعد مسجد کی دیوار کو استعمال کرنے کا حق واقف کو بھی شرعاً نہیں ہے، اس لئے اگر کوئی مسجد کی دیوار سے استفادہ کرنا چاہے تو شرعاً اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر ایسی تعمیر ہو گئی ہے تو اس کو گرادینا واجب و لازم ہے۔ مسجد کی کمیٹی کو اجازت دینے کا حق نہیں ہے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد۳ صفحہ ۴۰۲ میں ہے ’’لوتمت المسجدیۃ ثم ارادالبناء منع، ولو قال عنیت ذلک لم یصدق تاتار خانیہ، فاذا کان ھذا فی الواقف فکیف بغیرہ فیجب ھدمہ ولو علی جدار المسجد‘‘ اور رد المحتار میں ہے ’’قولہ ولو علی جدار المسجد مع انہ لم یاخذ من ھواء المسجد شیئا‘‘۔
ونقل فی البحر قبلہ ولایوضع الجذع علی جدار المسجد وان کان من اوقافہ۔ قلت وبہ علم حکم مایصنعہ بعض جیران المسجد من وضع جذوع علی جدارہ فانہ لایحل ولودفع الاجرۃ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT