Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / اقرباء پروری کے دور میں ایک ماں کے خلاف بیٹے کا فیصلہ کن ووٹ

اقرباء پروری کے دور میں ایک ماں کے خلاف بیٹے کا فیصلہ کن ووٹ

کیرالا کے مجالس مقامی کے انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کو ایک ووٹ سے شکست
تروننتھا پورم۔/10نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں سیاستدان عموماً اپنی اولاد کی حوصلہ افزائی  کرتے ہیں تاکہ سیاسی اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں۔ اس کے برخلاف ایک کہانی منظر عام پر آئی ہے جو کہ ایک سیول پولیس آفیسر راجیش کمار کی ہے جس کے پوسٹل ووٹ سے اس کی والدہ کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ کیرالا میں حالیہ اختتام پذیر محالس مقامی کے انتخابات میں بی جے پی امیدوارہ کو اس تلخ  تجربہ سے گذرنا پڑا۔ راجیش کمار نے سماجی میڈیا پر یہ وضاحت پیش کی کہ اس نے اپنی ماں کے خلاف کیوں ووٹ دیا جو کہ ملیالم زبان میں دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست اور جھوٹے وعدوں اور دعوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ضمیر کی آواز پر اپنی والدہ کے خلاف پوسٹل ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں ان کی ماں کو شکست اٹھانی پڑی۔ انہوں نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات سے متاثر ہوکر قومی مفادات کے بارے میں غور و فکر کیا لیکن مودی کے گجرات میں حقیقی تصویر کچھ اور نظر آئی جہاں پر دروغ گوئی کے پردہ میں اصلیت کو چھپایا گیا اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ گجرات میں مودی کے 15سالہ دور اقتدار میں تعلیمی شعبہ 28ویں مقام پر پہنچ گیا اور گجرات کے 70فیصد دیہات بنیادی سہولیات سے محروم ہیں حتیٰ کہ گجرات کا ایک بھی شہر ملک گیر سطح پر 50سرفہرست کلین سٹیز میں شامل نہیں ہے اور یہ لوگ ترقی کی من گھڑت کہانیاں پیش کرتے ہوئے خوف و ہراس کا ماحول بناکر دہلی پر قابض ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آر ایس ایس کسی طرح پسماندہ طبقات کے ختم کرکے اعلیٰ خاندانوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے گوکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کے برخلاف وعدہ کیا ہے کہ مروجہ ریزرویشن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس طرح کے متضاد وعدوں کو دو دھاری تلوار سے تعبیر کیا۔ بی جے پی واحد مقصد ہندو راشٹرا کے قیام کیلئے اقلیتوں کے خلاف تمام ذاتوں کے ہندوؤں کو استعمال کررہی ہے جس پر کئی ایک شک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر وہ اقلیتوں کے صفایا اور اقتدار پر مکمل قبضہ کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں گے تو ان کی تلوار کا اگلا نشانہ کون ہوگا؟ اور راجیش کمار نے خود اس کا جواب دیا کہ میں اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتا ہوں لیکن یہ ملک و قوم کے تئیں میرے فرائض سے بالاتر نہیں ہے اور مجھے فخر ہے کہ میرے فرائض کے راستہ میں ماں کی محبت رکاوٹ نہیں بن پائی۔ اگرچیکہ میری ماں نے ہی ملک و قوم کی خدمت کا درس اور جذبہ پیدا کیا لیکن آج وہ خود فراموش کربیٹھیں۔ میں ایک مثال قائم کرنا چاہتا ہوں جو کہ دوسروں کیلئے مشعل راہ ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ آج نہ صرف ہندو بلکہ پٹیل، مراٹھے، گورکھا اور بوڈوں کا دعویٰ ہے کہ وہ خواب غفلب سے بیدار ہوگئے ہیں۔ اگر رام سینا، ہندو سینا اور ہنومان سینا جیسی عسکریت پسند تنظیموں کا غلبہ حاوی ہوجائے گا تو ہمارا ملک پھر ایک بار تقسیم کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ راجیش کمار نے آخر میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آیا ہم ( ہندوستانی) عقل و دانش سے محروم لوگ ہیں اور امن و آشتی کا پیام دینے میں ناکام ہوگئے ہیں جبکہ جاپان ایٹم بم کی تباہیوں سے نکل کر ترقی کی بلندیوں تک پہنچ گیا اورہمارا یہ فریضہ ہے کہ مستقبل کی نسلوں کیلئے ایک بہتر ہندوستان کی تعمیر کریں اور سیکولرازم کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ نسل اور ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتا جائے ، اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملک کو عدم تحمل اور خوف و ہراس کے ماحول سے تحفظ فراہم کریں۔تاہم یہ قطعی رائے پیش کرنا مشکل ہے کہ راجیش کمار نے صحیح یا غلط کام کیا ہے  لیکن ان کے عظیم جذبہ کو سلام، جنہوں نے قومی مفادات پر ماں کی محبت کو نچھاور کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT