Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں اور دیگر طبقات کی صنعت کاری اسکیم ’ ٹی پرائم ‘ نظر انداز

اقلیتوں اور دیگر طبقات کی صنعت کاری اسکیم ’ ٹی پرائم ‘ نظر انداز

9 ماہ بعد بھی رہنمایانہ ہدایت کی عدم تیاری ، محکمہ اقلیتی بہبود خواب غفلت میں
حیدرآباد ۔ 25 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے 9 ماہ قبل مسلمانوں کے بشمول دوسرے اقلیتی طبقات کو حکومت کی رعایت اور سہولتوں سے صنعت کار بنانے کے لیے ’ ٹی پرائم ‘ اسکیم کا اعلان کیا تھا تاہم محکمہ اقلیتی بہبود کی غفلت سے ہنوز رہنمایانہ اصول تیار نہیں جس کا اقلیتوں کو نقصان بھگتنا پڑرہا ہے ۔ مسلمان ، سکھ ، عیسائیوں کے علاوہ دوسرے اقلیتوں کو بحیثیت صنعت کار حوصلہ افزائی کرنے اور صنعتی شعبہ میں اقلیتوں کی حصہ داری بڑھانے کا حکومت نے فیصلہ کیا تھا ۔ جس طرح دلتوں اور قبائلوں کو صنعت کار بنانے ( ٹی پرائیڈ ) کا اعلان کرتے ہوئے صنعتی شعبہ میں ان کی حصہ دار بڑھانے کے لیے رعایتیں اور سہولتیں دی جارہی ہیں وہی تمام سہولتیں اقلیتوں کو فراہم کرنے کے لیے ’ ٹی پرائم ‘ کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس اسکیم کے تحت دلتوں اور قبائلی طبقات کو جو سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں وہ تمام سہولتیں اقلیتوں کو بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھاتاکہ صنعتی شعبہ میں اقلیتوں کی مناسب حوصلہ افزائی ہوسکے ۔ اس اسکیم کے رہنمایانہ خطوط تیار کرنے کی ذمہ داری محکمہ اقلیتی بہبود کو سونپی گئی تھی ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ 9 ماہ گذرنے کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود نے اس پر کوئی غور و خوض نہیں کیا اور نہ ہی تجاویزکا مسودہ ابھی تک حکومت کو روانہ کیا ہے ۔ اس سے محکمہ اقلیتی بہبود کی غفلت اور سستی کا اندازہ ہوتا ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال تو تقریبا ضائع ہوگیا ۔ آئندہ مالیاتی سال کے لیے بھی پالیسی تیار ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں محکمہ صنعت کے عہدیدار بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی غفلت اور لاپرواہی پر حیرت کا اظہار کررہے ہیں ۔ ریاست کی عام ریاستی اسکیم کے تحت اقلیتوں کو صنعتوں کے قیام پر 20 لاکھ روپئے تک یعنی 15 فیصد کی سبسیڈی حاصل ہوگی ۔ اگر ’ ٹی پرائم ‘ کے آغاز پر اقلیتوں کو صنعتوں کی حوصلہ افزائی میں سکشما اور متوسط طرز کے صنعتوں کے قیام پر 75 لاکھ روپئے تقریبا 35 فیصد سبسیڈی حکومت سے حاصل ہوگی ۔ اس کے علاوہ آئندہ 5 سال تک برقی بلز اسٹیٹ جی ایس ٹی کی حصہ دار کے ساتھ دوسری رعایتیں حکومت مالکین صنعت کو واپس کرے گی ۔ اس اسکیم سے اقلیتی صنعت کاروں کو حکومت سے کئی رعایتیں حاصل ہوسکتی ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود نے 9 ماہ گذر جانے کے باوجود اسکیم کی تیاری کے لیے کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ۔ حکومت نے اسکیم کا اعلان تو کیا مگر محکمہ اقلیتی بہبود نے رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کیا جس سے صنعتی شعبہ میں قسمت آزمائی کرنے کے خواہش مدن اقلیتی صنعت کار حکومت کی سہولت سے محروم ہورہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT