Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں اور مظلوم طبقات پر انسداد ہراسانی کیلئے عدالتوں کی سفارش

اقلیتوں اور مظلوم طبقات پر انسداد ہراسانی کیلئے عدالتوں کی سفارش

اقلیتی کمیشن کے تیار کردہ مسودہ قانون کی اجرائی، ترمیم و تجاویز کی مہلت، چیرمین کمیشن کا بیان
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) اقلیتوں و دیگر مظلوم طبقات کے ساتھ ہراسانی کے واقعات کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے ضلع واری اساس پر خصوصی عدالت قائم کرنے کی سفارش کے ساتھ آج کمیشن نے 2014 ء میں تیار کردہ ایکٹ جاری کردیا۔ مسودہ قانون میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے علاوہ حملوں، قتل و غارت گری، عصمت ریزی، جائیدادوں پر قبضہ وغیرہ کے واقعات سے نمٹنے کے لئے مختلف گنجائش فراہم کی گئی ہے اور جائیداد پر قبضہ یا اقلیتوں کو مذہب کی بنیاد پر اُنھیں ہراساں کئے جانے کی صورت میں 6 تا 5 سال تک کی قید بامشقت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ریاستی اقلیتی کمیشن آندھراپردیش و تلنگانہ کی جانب سے تیار کردہ مسودہ قانون میں مسلمان، عیسائی، جین، پارسی، سکھ و دیگر مظلومین کو حاصل حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات کی راہ دکھائی گئی ہے۔ جناب عابد رسول خان نے آج اس مسودہ قانون کی اجرائی کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سال کے دوران مساجد، چرچ و درگاہوں پر حملوں کے زائداز 100 شکایتیں کمیشن کو موصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں عیسائی راہبوں پر حملوں کی بھی متعدد شکایتیں موصول ہورہی تھیں۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے فیصلہ کیاکہ کمیشن کی جانب سے ماہرین قانون سے مشاورت کے ساتھ ایک مسودہ تیار کیا جائے اور حکومت کو پیش کرنے سے قبل اہم شخصیتوں، تنظیموں، ماہرین قانون، عوام، سیاسی و مذہبی قائدین سے اِس مسودہ پر رائے حاصل کرتے ہوئے اسے حکومت کو پیش کیا جائے۔ اِسی ضمن میں کمیشن نے آج یہ مسودہ قانون جاری کردیا ہے جوکہ کمیشن کے پاس موجود ہے۔ علاوہ ازیں ویب سائیٹ maulanaazad.com پر بھی اس مسودہ کی نقول رکھی گئی ہیں جس میں ترمیم کے علاوہ دیگر تجاویز عوام روانہ کرسکتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اننت پور، کرنول کے علاوہ رنگاریڈی اور کھمم سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مالکین جائیداد کو اُن کی جائیدادوں پر ہی جانے سے روکا جارہا ہے اور بعض شرپسند عناصر دھمکیاں دیتے ہوئے جائیدادیں ہڑپنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جناب عابد رسول خان نے بتایا کہ اس مسودہ قانون میں اس بات کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ اقلیتوں کے خلاف ہراسانی کے واقعات کے ذمہ دار عہدیداروں کی جائیدادیں قرق کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں کمیشن کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ ضرور اس مسودہ کو ایوان میں پیش کرواتے ہوئے قانون کی شکل دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اُنھوں نے بتایا کہ دونوں ریاستوں آندھراپردیش و تلنگانہ کی حکومتوں کے علاوہ محکمہ قانون کے اعلیٰ عہدیداروں کو 15 یوم بعد یہ مسودہ عوامی رائے و نمائندگیوں کے ساتھ حکومت کو پیش کردیا جائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اقلیتوں کے ساتھ ناانصافیوں کے متعدد واقعات منظر عام پر آرہے ہیں اور ابھی بینک آف بروڈہ کے ایک عہدیدار نے اقلیتی درخواست گذار کو قرض منظوری کے باوجود جاری کرنے سے انکار کررہا تھا اور کمیشن کی جانب سے طلب کئے جانے پر عہدیدار واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ جس علاقہ میں درخواست گذار مقیم ہے اُس علاقہ پر عہدیدار کو اعتراض ہے اسی لئے وہ قرض جاری نہیں کریں گے۔ اس استدلال کے بعد کمیشن نے اس بات کا فیصلہ کیاکہ مذکورہ عہدیدار کی معطلی کے لئے اعلیٰ عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے احکام جاری کئے جائیں گے۔اس موقع پر اُن کے ہمراہ آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی جناب حسن صاحب اور مسٹر اوما مہیشور راؤ بھی موجود تھے۔
مجلس بچاؤ تحریک کا آج ہنگامی اجلاس
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : رحمت فنکشن ہال چنچل گوڑہ کھلہ میں ابتدائی صدور ، معتمدین و کارکنان مجلس بچاؤ تحریک کا ایک ہنگامی اجلاس 14 نومبر کو بعد مغرب مقرر ہے ۔ صدارت ڈاکٹر قائم خاں صدر تحریک کریں گے ۔ قرات کلام پاک سے آغاز ہوگا۔ بعد ازاں مجوزہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کے ضمن میں مشاورت کی جائیگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT