Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی اسکیمات پر عمل آوری کو مؤثر بنانے کی ہدایت

اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی اسکیمات پر عمل آوری کو مؤثر بنانے کی ہدایت

تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹرس محمد محمود علی وکڈیم سری ہری کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس

تلنگانہ کے ڈپٹی چیف منسٹرس محمد محمود علی وکڈیم سری ہری کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔/25اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے دونوں ڈپٹی چیف منسٹرس کڈیم سری ہری اور محمد محمود علی نے آج اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ریاستی وزراء جوگو رامنا اور اجمیرا چندولال بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔حکومت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اسکیمات پر موثر عمل آوری اور فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچانے پر توجہ دیں۔ اس کے علاوہ نئی اسکیمات کے بارے میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پرنسپال سکریٹری سماجی بھلائی کی صدارت میں سب کمیٹی تشکیل دی گئی جو ریاست میں فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لے گی اور حکومت کو تجاویز پیش کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹرس نے اقلیت اور دیگر کمزور طبقات کی بہبود سے متعلق محکمہ جات کو ہدایت دی کہ وہ پہلے اپنے محکمہ جات میں اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے سب کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔ حکومت نے واضح کیا کہ فلاحی اسکیمات اس کی اولین ترجیح ہیں اور اس میں کسی بھی بے قاعدگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کمزور طبقات اور اقلیتوں کیلئے تمام اسکیمات میں یکسانیت اور ان سے استفادہ کے قواعد کو بھی یکساں بنانے کی تجویز رکھتی ہے تاکہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی کے ساتھ اقلیتوں کو بھی تمام اسکیمات سے فائدہ ہوسکے۔ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ کمزور طبقات اور اقلیتوں کو بینکوں سے قرض کی موجودہ حد ڈھائی لاکھ روپئے میں اضافہ کرتے ہوئے 8لاکھ کیا جائے تاکہ غریب خاندان اس رقم سے کوئی کاروبار کا آغاز کرسکیں۔ اسکیمات سے استفادہ کیلئے شہری اور دیہی علاقوں میں آمدنی کی حد میں اضافہ سے بھی اتفاق کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں آمدنی کی حد سالانہ 60ہزار ہے جسے بڑھاکر دیڑھ لاکھ کرنے جبکہ شہری علاقوں کی آمدنی کی حد 75ہزار کو بڑھا کر 2لاکھ کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کی طرح اقلیتوں کیلئے بھی اضلاع میں اقامتی ہاسٹلس اور مدارس کے قیام سے اتفاق کیا گیا۔ اقلیتی مدارس میں اساتذہ کی کمی اور خاص طور پر مضمون واری اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ تمام محکمہ جات سے رپورٹ حاصل ہونے کے بعد 8مئی کو دوبارہ ڈپٹی چیف منسٹرس کی نگرانی میں اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں وزیر فینانس ای راجندر بھی شریک ہوں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتی بہبود سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری میں تیزی پیدا کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی اور کہا کہ دیگر طبقات کی طرح اقلیتوں کو بھی تمام اسکیمات کے فوائد حاصل ہونے چاہیئے۔ انہوں نے اقلیتی اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی روزگار کے حصول اور اعلیٰ تعلیم کے سلسلہ میں رہنمائی کیلئے ہر ضلع میں کیریئر گائیڈنس سل کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قواعد میں نرمی پیدا کرنے کے باوجود عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے سبب اسکیمات پر عمل آوری میں دشواری ہورہی ہے۔ ہاسٹلس میں طلباء و طالبات کیلئے مقررہ کاسمیٹک چارجس میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے صنعتی شعبہ میں قرض کی اجرائی کے سلسلہ میں اقلیتوں کی کم حصہ داری پر تشویش کا اظہار کیا اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ صنعتی قرض کے سلسلہ میں اقلیتوں میں شعور بیدار کریں۔ انہوں نے ہر ضلع میں اقلیتوں کیلئے ہاسٹلس اور اسکولس کے قیام کے علاوہ اساتذہ کی کمی دور کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال کے مقابلہ جاریہ سال اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے اور اس کے مکمل خرچ کی خواہاں ہے۔ اجلاس میں پرنسپال سکریٹری سماجی بھلائی ریمنڈ پیٹر، کمشنر بی سی ویلفیر پراوین کمار، ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ اور دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT