Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / اقلیتوں سے متعلق حامد انصاری کے بیان کی مدافعت

اقلیتوں سے متعلق حامد انصاری کے بیان کی مدافعت

حالت میں بہتری کیلئے موثر اقدامات کی وکالت ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کا بیان

ممبئی 10 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سینئر بی جے پی لیڈر و مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ مختار عباس نقوی نے ملک میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کی زبوں حالی پر نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری کے ریمارکس کی مدافعت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو کی حالت میں بہتری کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے ۔ مختار عباس نقوی نے یہاں پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نائب صدر جناب حامد انصاری نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے ۔ یہ ریمارکس بی جے پی یا این ڈی اے حکومت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ آزادی کے بعد سے جس طرح منظم انداز میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے یہ ریمارکس اس کے خلاف ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا وہ اقلیتوں کی حالت میں بہتری پیدا کرنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کے حامی ہیں مختار عباس نقوی نے کہا کہ یقینی طور پر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی حالت کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ مختار عباس نقوی کے یہ ریمارکس بی جے پی کے موقف سے مختلف ہیں۔ پارٹی نے ان کے ان ریمارکس کی مذمت کی تھی ۔ جناب حامد انصاری نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو شناحت ‘ تحفظ ‘ تعلیم اور با اختیار بنانے کے علاوہ فیصلہ ساز ی کے عمل میں حصہ داری سے محروم کرنے کے مسائل کا سامنا ہے اور اس صورتحال کو حکومتوں کی جانب سے موثر اقدامات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ جناب حامد انصاری نے سب کا اتھ سب کا وکاس کے نعرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک اچھا نعرہ ہے اور اس کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس سے سبھی کو فائدہ ہوسکے ۔ نائب صدر جمہوریہ کے ان ریمارکس پر بی جے پی کے جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ نے شدید تنقید کی تھی اور ان ریمارکس کو فرقہ پرستانہ قرار دیا تھا ۔ انہوںنے کہا تھا کہ نائب صدر جمہوریہ کا عہدہ دستوری ہوتا ہے اور یہ سارے ملک سے متعلق ہوتا ہے کسی ایک فرقہ کے تعلق سے نہیں ہوتا ۔

TOPPOPULARRECENT