Tuesday , June 19 2018
Home / اداریہ / اقلیتوں پر حملے اور حکومت

اقلیتوں پر حملے اور حکومت

کچھ باغباں کو فکر‘ نہ پھولوں کو کچھ خبر کیا کچھ پیام شورِ عنادل سے آئے ہیں اقلیتوں پر حملے اور حکومت

کچھ باغباں کو فکر‘ نہ پھولوں کو کچھ خبر
کیا کچھ پیام شورِ عنادل سے آئے ہیں
اقلیتوں پر حملے اور حکومت
اب اس حقیقت کو سبھی گوشے تسلیم کرنے لگے ہیںکہ جب سے مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت قائم ہوئی ہے اقلیتوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ بی جے پی کی تائید کرنے والی تمام فرقہ پرست تنظیمیں جیسے بجرنگ دل ‘ آر ایس ایس ‘ وشوا ہندو پریشد ‘ شیوسینا اور کئی ایسی ہی تنظیمیں اپنے زہریلے عزائم کے ساتھ سامنے آگئی ہیں اور وہ ان کا کھلے عام اظہار بھی کر رہی ہیں۔ کہیں گھر واپسی کے نام پر مجبور اور بے بس مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی یا لالچ دے کر ہندو مذہب میں شامل کیا جا رہا ہے تو کہیں چرچس و مساجد کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ہندوستان کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کردیا جائیگا تو کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس ملک میں رہنے بسنے والے تمام لوگ ثقافتی ‘ قومی اور ڈی این اے کے اعتبار سے ہندو ہی ہیں۔ کہیں یہ ادعا کیا جا رہا ہے کہ اس ملک میں اقلیت نہیں ہیں کیونکہ سبھی ایک ہیں۔ کہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے لئے کچھ مراعات حاصل کرنے ہیں تو انہیں پاکستان چلے جانا چاہئے ۔ تمام فرقہ پرست اور فاشسٹ عزائم رکھنے والی تنظیموں کیلئے ایسا لگتا ہے کہ نریند رمودی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اپنے عزائم کی تکمیل کا موقع مل گیا ہے اور وہ پوری شدت کے ساتھ ان عزائم کی تکمیل میں جٹ گئی ہیں اور انہیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہندوستان کے دستور کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ یحہ بھی مطالبات کئے جا رہے ہیں کہ دستور میں بھی شامل کچھ ایسے الفاظ کو حذف کردیا جائے جو ان فرقہ پرست تنظیموں کے عزائم کی تکمیل میں رکاوٹ بن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان سب کے باوجود حکومت اپنی جانب سے کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں ہے اور ایسا تاثر عام ہوتا جا رہا ہے نریندر مودی حکومت راست یا بالواسطہ طور پر ان تمام تنظیموں کی پشت پناہی کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ حالانکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دہرانے میں مصروف ہیں اور ہندوستانی دستور کی پابندی کا عہد بھی ظاہر کر رہے ہیں لیکن دستور ہند کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے اور حکومت کی خاموشی سے ان کے عزائم بلند ہوتے جا رہے ہیں۔
حکومت اقلیتوں کو تیقنات دینے میں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہے ۔ یہ دعوے ضرور کئے جا رہے ہیں کہ اس ملک میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائیگا لیکن حقیقی صورتحال اس کے یکسر برعکس ہے ۔ رام زادوں اور حرام زادوں جیسے نعرے دینے والوں کے خلاف ‘ چار تا چھ بچے پیدا کرنے کا مشورہ دینے والوں کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کرنے کی بجائے وزیر اعظم ان کی مدد کیلئے آگے آتے ہیں اور یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ایسا ریمارک کرنے والی سادھوی دیہاتی پس منظر سے آئی ہیں اس لئے ان کی اس لغزش کو معاف کردیا جانا چاہئے ۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں بھی یہ تیقن دینے سے گریز نہیں کیا کہ ملک میں اقلیتوں کے ساتھ کسی طرح کا امتیاز نہیں برتا جائیگا اور سب کو مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ لیکن یہ سب کچھ صرف زبانی ہے اور عملا حکومت اس معاملہ میں خاموش ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان تمام تنظیموں پر لگام کسنے کے معاملہ میں بے بس ہے اور ان تنظیموں پر اس کی ہدایات و بیانات کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ ایوان میں اور ایوان کے باہر وزیر اعظم یا وزیر داخلہ وضاحتیں کرتے نہیں تھکتے ہیں لیکن خود بی جے پی کے قائدین حکومت کے بیانات کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم کی ہدایات اور بعض موقعوں پر خود ساختہ ناراضگی کے باوجود اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔
ہندوستان کثرت میں وحدت کی منفرد مثال رکھنے والا ملک ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ‘ مختلف زبانیں بولنے والے ‘ مختلف روایات کی پاسداری کرنے والے لوگ رہتے بستے ہیں۔ یہ سب مل کر ہندوستان کو ایک ایسا گلدستہ بناتے ہیں جس کی مثال دنیا کا کوئی اور ملک پیش نہیں کرسکتا ۔ مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہندوستان کی اس منفرد مثال کو قائم اور برقرار رکھے ۔ کسی بھی تنظیم یا گوشہ کو یا مخصوص نظریہ رکھنے والوں کو اس گلدستہ کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ اقلیتوں پر حملوں کے جو واقعات پیش آ رہے ہیں ان کو روکنے کیلئے حکومت کو عزم اور حوصلے کے ساتھ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوسکتا اور حکومت کی خاموشی سے ان فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم مزید بلند ہوجائیں گے جس سے ملک کے سکیولر تانے بانے کے متاثر ہونے کے اندیشوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔

TOPPOPULARRECENT