Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں پر حملے اور ہلاکتوں کیخلاف طلبہ تنظیم کی احتجاجی مہم

اقلیتوں پر حملے اور ہلاکتوں کیخلاف طلبہ تنظیم کی احتجاجی مہم

ملک گیر سطح پر شعور بیداری پیدا کرنے کا فیصلہ، کنہیا کمار و سید ولی اللہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ یکم ؍ جولائی (سیاست نیوز) ملک میں اقلیتوں پر جاری حملے اور ہلاکتوں کے خلاف بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نے احتجاج کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مسلم اقلیتوں، دلت آدی واسی اور خواتین پر جاری مظالم کی روک تھام اور سماجی انصاف کیلئے ملک کی سیکولر طاقتوں اور مظلوم عوام کو ایک پلیٹ فام پر جمع کیا جائے گا۔ یہ بات اے آئی ایس ایف قائد و مسٹر کنہیا کمار نے بتائی ۔ انہوں نے قومی صدر اے آئی ایس ایف سید ولی اللہ قادری کے ہمراہ اپنے بیان میں کہا کہ ملک گیر سطح پر شعوربیداری اور احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔ کنیا کماری سے مہم کا آغاز ہوگا اور اختتام شمالی ہند کی ریاستوں میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے حالات دھماکو ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے وقت سیکولر ذہن کو عوام کو اپنی متحدہ آواز بلند کرنا ہوگا۔ دیگر صورت ملک کی سالمیت خطرہ میں پڑجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گائے کی منتقلی کے نام پر مسلم نوجوانوں کو حملہ کا نشانہ بنانا اور ہجوم کی شکل میں انہیں ہلاک کرنا ملک کے قانون اور سسٹم کیلئے ایک چیلنج ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام معاملات میں حکومت کی خاموشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔ مسٹر کنہیا کمار نے کہا کہ اے آئی ایس ایف اور اے آئی وائی ایف کی جانب سے منعقدہ ملک گیر مہم میں سماج کے ہر سیکولر ذہن شہری تک رسائی کی جائے گی۔ انہوں نے آر ایس ایس اور اس کی محاذی تنظیموں پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں ان حالات کیلئے یہی لوگ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور اس کی محاذی تنظیموں اور ان کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اب وقت آ گیا ہے اور سیکولر ہندوستان کی سالمیت اور بھائی چارہ کے پہچان کو برقرار کھنے کیلئے جدوجہد کی جائے گی اور اس کام سے ہمدردی رکھنے والے افراد کو مہم سے جوڑا جائے گا۔ انہوں نے مسلم، اقلیتوں، دلت، آدیواسی عوام اور خواتین سے اپیل کی کہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم کی مہم کو مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں روزگار اور سماجی انصاف جیسے مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کرنے میں بھی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ اس موقع پر آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) اور آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے کارکنان قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT