Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / اقلیتوں پر حکومتی پالیسی کا اعلان کریں، وزیراعظم سے مطالبہ

اقلیتوں پر حکومتی پالیسی کا اعلان کریں، وزیراعظم سے مطالبہ

NEW DELHI, MAR 12 (UNI):- Maulana Arshad Madani, President,Jamiat Ulema-e-Hind addressing a Conference on National Integration in New Delhi on Saturday. UNI PHOTO-68U

’سب کا ساتھ سب کا وِکاس‘ کی بات جھوٹ ۔ صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کا خطاب
نئی دہلی ، 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ بدستور خاموش رہتے ہیں جب برسراقتدار پارٹی کے ایم پیز اقلیتوں کے خلاف ’’آگ اگلتے‘‘ ہیں اور ان سے اقلیتوں کے تعلق سے اپنی حکومت کی پالیسی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعیۃ علماء ہند نے وزیراعظم کو یونیورسٹیوں میں آزادیٔ اظہار خیال کو مبینہ طور پر کچلنے کے مسئلے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایچ سی یو ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی پر مودی کے جذباتی ردعمل کی اطلاعات کو ’’مگرمچھ کے آنسوؤں‘‘ سے تعبیر کیا۔ صدر جمعیۃ مولانا سید ارشد مدنی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اقلیتوں بشمول مسلمانوں اور عیسائیوں اور دلتوں پر این ڈی اے حکمرانی کے دوران حملے کئے جارہے ہیں اور سکیولر قوتوں سے اپیل کی کہ فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں ’’امن و محبت‘‘ کے پیام کو پھیلانے کیلئے ہاتھ ملاکر متحد ہوجائیں۔ مولانا مدنی نے اپنی تنظیم کے زیراہتمام یہاں منعقدہ ’قومی یکجہتی کانفرنس‘ سے خطاب میں کہا: ’’کیوں نہ آپ اپنی پالیسی کا اعلان کردیتے؟ یہ کس قسم کی پالیسی ہے کہ وہ (بی جے پی ایم پیز) آگ اُگل رہے ہیں اور وہ (وزیراعظم) بدستور خاموش ہیں؟ کھل کر سامنے آئیں

اور اعلان کریں کہ یہ ہماری پالیسی نہیں ہے۔ اُن کی یہ بات ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ سب جھوٹ ہے۔ کیا یہی ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ ہے؟ اگر آپ کے افکار درست ہوتے  تو ہم آپ کے ساتھ ہوتے۔‘‘ انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ منہ زوری پر لگام کسیں اور یہ واضح کردیں کہ جو کچھ برسراقتدار پارٹی کے ایم پیز کہہ رہے ہیں، ’’خود پارٹی کا موقف ہے یا کسی اور کی ترجمانی ہے۔‘‘ مولانا مدنی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر دائیں بازو کی اس پارٹی (بی جے پی) کو لوک سبھا کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل ہوجائے تو اس ملک میں اقلیتوں کو سلامتی کا احساس نہیں رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ آج حالات نہایت دگرگوں ہیں۔ ’گھر واپسی‘ کی جارہی ہے۔ اگر کوئی بھی ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا چاہتا ہے تو ایسا ہونے نہیں دیں گے، ہم اس طرح کی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT