Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / اقلیتوں کو اپنے حقوق کیلئے کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں

اقلیتوں کو اپنے حقوق کیلئے کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں

سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کو عملی شکل دینے مسلمانوں کو دیگر طبقات کے ساتھ کھڑا کرنا ضروری: حامد انصاری

نئی دہلی۔23 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک ایسے وقت جب سماجی ترقی کے اشاریہ میں مسلمان، دیگر طبقات سے بہت پیچھے ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج کہا کہ اگر ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی کے نعرہ کی تکمیل کرنا ہے تو اقلیتی طبقہ کو سب سے پہلے دیگر طبقات کے مساوی لاکھڑا کیا جانا چاہئے۔ حامد انصاری نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ترقی کے لئے کسی سے بھیک نہ مانگیں بلکہ اس مقصد کے لئے حکومت سے پوچھنا اور طلب کرنا ان (مسلمانوں) کا قانونی حق ہے چنانچہ حکومت کو بسااوقات اس کے فرائض اور ذمہ داریاں یاد دلانے کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ حامد انصاری نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں اور تعلیم کی فراہمی پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کریں کیوں کہ ان (مسلمانو) میں ہائی اسکول تعلیم ترک کرنا کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ نائب صدر ہند نے کہا کہ ’’ہمارے وزیراعطم نے سب کا ساتھ سب کا وکاس پر زور دیا ہے لیکن سب کو آگے بڑھنے کے لئے ان تمام کو ایک ہی قطار میں کھڑا ہونا ہوتا ہے‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر کوئی پیچھے ہے تو وہ مسابقت نہیں کرسکتا۔ سب کو ایک ہی صف ایک ہی قطار میں لایا جائے تب ہی ملک ترقی و خوشحالی حاصل کرسکتا ہے۔ یہ ایک عظیم ملک ہے جو مزید ترقی یافتہ اور خوشحال بن سکتا ہے۔‘‘ حامد انصاری یہاں تعلیم و تربیت کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ تعلیم، اختیارات اور توانائی کس طرح کسی طبقہ کی ترقی و خوشحالی میں معاون و مددگار ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اقلیتی طبقات سے کہا کہ انہیں اپنے حقوق کے لئے کسی سے بھیک مانگنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ انہیں قانوناً اپنے حقوق کی تکمیل کا مطابہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سے آپ کو جو بھی چاہئے آپ اس کا مطالبہ کریں۔ یہ آپ کا حق ہے۔ آپ حکومت کو یہ محسوس کرنے پر مجبور بھی کرسکتے ہیں کہ وہ آپ کے حقوق کے تئیں لاپرواہی کررہی ہے۔ انہوں نے ماضی میں ایسا کیا ہے اور آج بھی ایسا ہورہا ہے۔ حکومت سے جو مانگنا ہے، وہ مانگئے، یہ آپ کا حق ہے۔ حکومت کو احساس بھی دلانا ہے کہ حکومت آپ کا حق دینے میں کوتاہی کررہی ہے، ماضی میں بھی کی ہے اور آج بھی کررہی ہے۔‘‘ حامد انصاری نے کہا کہ ’’مختلف اسکیمیں مرتب کی گئیں لیکن ان پر مناسب عمل آوری نہیں کی گئی۔ تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر انصاری نے کہا کہ ’’دنیا آج تیز رفتار ترقی کررہی ہے اور اس کے لئے عوام کو تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے اقلیتوں کیلئے تحتانوی اور بنیادی تعلیم کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسکولی تعلیم ترک کرنے کے تناسب میں ہولناک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں پر زور دیا کہ تعلیم کی فراہمی کیلئے خود ان کی طرف سے کی گئی کوششوں کا محاسبہ کریں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے اقلیتوں کو تعلیم کے ذریعہ بااختیار بنانے پر زور دیا اور کہا کہ اس طبقہ کی ترقی کیلئے تعلیم کے ساتھ معاشی خواندگی کی ضرورت کا تذکرہ کیا۔ بی ایس ای کے سی ای او اشیش چوہان نے اقلیتی طبقہ پر زور دیا کہ وہ اپنی شمولیاتی ترقی کیلئے نئی ٹکنالوجی اپنانے پر توجہ مرکوز کرے۔واضح رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انتخابات سے قبل اپنی مہم کے دوران بہت سے وعدے کئے تھے، بعدازاں انہوں نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ بھی دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT