Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو تمام شعبہ جات میں بارہ فیصد تحفظات لازمی

اقلیتوں کو تمام شعبہ جات میں بارہ فیصد تحفظات لازمی

حیدرآباد۔8اگست(سیاست نیوز) نو قائم شدہ ریاست تلنگانہ میںاقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی سماجی ومعاشی اور تعلیمی میدان میں پسماندگی کے پیش نظر مسلمانوں کو تمام شعبہ جات میں بارہ فیصدتحفظات لازمی ہیں۔ ان خیالات کا آج مدینہ ایجوکیشن سنٹر نامپلی میں تلنگانہ مسلم ریزوریشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کل جماعتی گول میز کانفرنس میںکیاگیاجس کی نگرانی جناب حنیف احمد صدر تلنگانہ مسلم ریزوریشن فرنٹ نے کی جبکہ جناب ظہیر الدین علی خان‘ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام‘ریٹائرڈ چیف جسٹس چندرا کمار‘ تلنگانہ سی پی آئی اسٹیٹ جنرل سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی‘ سی پی ائی ایم ویملا پلی وینکٹ رامیا‘چیرمن ٹی آر سی مسٹر ایم ویدا کمار‘ پروفیسر گالی ونود کمار‘ جناب مشتاق ملک‘ جناب خالد رسول خان‘ جناب خلیق الرحمن‘ جناب ثناء اللہ خان‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری‘ جناب رحمن صوفی ‘ مسٹر پی یادگیری‘ جناب محمد رحمت‘ جناب شفیع اللہ قادری ویلفیر پارٹی آف انڈیا‘ فاروق علی خان‘ خواجہ ناظم الدین کے علاوہ ضلع محبو ب نگر سے محمد ظفر اللہ صدیقی‘ جناب جابر بن سعید‘ رحمن صوفی‘ عبدالصمد خان‘ جناب رفیق پٹیل‘ جناب اقبال پہلوان‘ جناب زاہد حسین ہاشمی‘ جناب سعادات اللہ‘ جناب محمد عزیز‘ جناب محمدصفدر اور ضلع کریم نگر سے سید شرف الدین‘ جناب ناصر الدین‘ جناب جنید‘ ایڈوکیٹ جناب شاہد عقیل‘جناب محمد نواب اور ضلع نظام آباد و کھمم سے بھی نمائندگی کرتے ہوئے ریاست میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے لئے موثر تحریک چلانے کی ضرورت پر زوردیا۔جناب ظہیر الدین علی خان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی سطح پر مسلمانو ںکے صبر وتحمل کو آزمایا جارہا ہے۔ مرکزی او رریاستی حکومتیں مسلمانوں کے تئیں ایک ہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ گول میز کانفرنس کی کارروائی جناب نعیم اللہ شریف نے چلائی ۔ جناب ظہیرالدین علی خان نے مسلمانوں کیساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر مسلمانوں کی خود ساختہ قیادتوں کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے مسلم مسائل کو یکسر نظر انداز کرنے والی مسلم قیادتوں کو اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت فکر دی۔ انہوں نے پچھلے عام انتخابات کے دوران سوشیل میڈیا پر تیزی کے ساتھ پھیلنے والی پھیکو ڈاٹ کام ویب سائیٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ملک میںایک پھیکو نہیںبلکہ ہر ریاست اور اسمبلی حلقہ میں ایک پھیکو موجود ہے جو صرف بلند بانگ دعوئوں اور اعلانات کے ذریعہ مسلمانوں کو خوش کیا جارہا ہے۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے مسلم تحفظات کے لئے ریاستی سطح پر چلائی جانے والی ہر تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کی محاذی تنظیم آواز کی جانب سے ریاست گیر سطح پر چلائی جانے والی مہم کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ سی پی آئی ایم کی جانب سے مسلم تحفظات کے ضمن میں تشہیر گاڑی چلائی جارہی ہے انہوں نے مذکورہ گاڑی کی تشہیر میں شرکاء کو آگے آنے اور سی پی آئی ایم کی اس مہم میں ساتھ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے تلنگانہ مسلم ریزوریشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔انہوں نے مسلم تحفظات کی تحریکات میں دیگر ابنائے وطن کے ساتھ کو بھی ضروری قراردیا۔ پروفیسر کودنڈارام نے جمہوریت کے مکمل نفاذ کے لئے پسماندگی کاشکار طبقات کے لئے تحفظات کی فراہمی کو لازمی قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ قومی او ریاستی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ مسلم میناریٹی کے ساتھ انصاف کے لئے ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے سیاسی نظریات سے بالاتر ہوکر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی جدوجہد میںشدت پیدا کرنے کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی۔پروفیسر کودنڈارام نے مسلمانوں کے تعلیمی او رمعاشی حالات میں سدھار کے لئے میناریٹی کمیشن میںاصلاحات لانے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پر (مارجن منی) کے نام پر مسلمانوں کو قرضہ جات فراہم کئے جاتے ہیں وہیں پر سبسڈی کا نفاذ مسلمانوں کے معاشی حالات میںسدھار میںمعاون ثابت ہوگا۔پروفیسر کودنڈارام نے کہاکہ مذہب کے بجائے تعلیمی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات ضروری ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ مذہب کے نام پر تحفظات کی فراہمی قانونی کارروائی کا شکار ہونے کا قوی خدشہ ہے۔ اس خدشہ کو دور کرنے کے لئے مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کرنے کے لئے متحدہ تحریک شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔جسٹس چندر کمار نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک کا خیر مقدم کرتے ہوئے جسٹس راجندر سنگھ سچر او ررنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کاحوالہ دیا جس میں مسلمانوں کی پسماندگی کے متعلق حقائق پیش کئے گئے ہیں۔ انہوںنے ان رپورٹس کی بنیاد پر مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکومت تلنگانہ کو مشورہ دیا۔ مسٹر ایم ویدا کمار نے کہاکہ چودہ ماہ قبل تلنگانہ ریاست میں برسراقتدار سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر چودہ ماہ کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود عمل ندارد ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی اکثریت کی معیشت نہایت کمزور ہے اور معاشی مسائل کے سبب وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسے میں ریاست کی برسراقتدار جماعت پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ ریاست میںمعاشی اور تعلیمی پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انہیں تحفظات اور مراعات فراہم کریں۔ مسٹر ویدا کمار نے تمام شعبہ حیا ت میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی حکومت تلنگانہ سے اپیل کی۔ پروفیسر گالی ونود کمار نے 60 سالوں میں دلت اور مسلم طبقات کے ساتھ ہونے والی تفصیلات پیش کیں۔ مسٹر ونود کمار نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں جہا ںپر اعلی ذات کے حکمران اقتدار پر فائز تھے انہوں نے دلتوں اور مسلمانوں کے مسائل کو نذر انداز کرتے ہوئے ریاست میں پسماندگی کا شکار طبقات کا استحصال کیا اور اب جبکہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آچکی ہے تب بھی دلت او ر مسلم طبقات انصاف سے محروم ہیں۔ انہوں نے ریاستی کابینہ میں اعلی عہدوں پر فائز ریڈی وزراء کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ دوفیصد آبادی کا تناسب رکھنے والے ریڈی طبقے کے چھ سے زیادہ نمائندے ریاستی کابینہ میں ہیں جبکہ بارہ فیصد سے زیادہ آبادی والے مسلم طبقے سے صرف ایک نمائندگی وہ بھی اختیارات سے محروم ہے۔انہوں نے کہاکہ دلت مسلم اتحاد کے ذریعہ ریاست میں پسماندگی کا شکار طبقات کے ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ کانفرنس کے دیگر شرکاء نے مجموعی طور پر تلنگانہ میںمسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کے متعلق حکومت تلنگانہ کے رویہ کو مشکوک قراردیتے ہوئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے سدھیر کمیشن کے قیام کو ریاست تلنگانہ کے مسلمانو ںکے ساتھ ایک کھلواڑ قراردیا۔ شرکاء نے اپنے خطاب میں بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی تشکیل کردہ سدھیر کمیٹی کی کوئی قانونی اوقات نہیں ہے۔اس کے علاوہ سدھیر کمیٹی کے بجائے راست حکومت سے نمائندگی کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔شرکاء نے حکومت تلنگانہ کوسدھیر کمیٹی کے بجائے بی سی کمیشن قائم کرنے کا مشورہ دیا او رکہاکہ اگر حکومت تلنگانہ مسلم تحفظات کے متعلق اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی کرے گی تو اس کو آنے والے ضمنی او ربلدی انتخابات میںاس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT