Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اقلیتوں کو خوش کرنے چیف منسٹر اور مقامی جماعت کی کوشش

اقلیتوں کو خوش کرنے چیف منسٹر اور مقامی جماعت کی کوشش

 

تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات 2018 میں؟

جائزہ اجلاس میں مقامی جماعت کی حاضری، ٹی آر ایس کے مسلم ارکان مقننہ نظرانداز

حیدرآباد۔23 اکٹوبر (سیاست نیوز) کیا تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات مقررہ مدت کی تکمیل سے قبل ہوں گے؟ اسمبلی کی میعاد اگرچہ 2019ء تک ہے، لیکن چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اور ان کی حلیف مقامی جماعت کے قائدین جس طرح اچانک سرگرم ہوچکے ہیں، قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات 2018ء میں کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے اپنی حلیف جماعت کو اس بات کا اشارہ بھی دے دیا ہے جس کے نتیجہ میں دونوں کو شدت کے ساتھ عام آدمی اور خاص طور پر مسلم اقلیت کی یاد ستانے لگی ہے۔ چیف منسٹر نے آج اقلیتی بہبود کے امور پر اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کی خصوصیت یہ رہی کہ مقامی سیاسی جماعت کے ’’برادران‘‘ کو اجلاس میں شریک کرتے ہوئے ان کی خواہش کے مطابق چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل آوری کی گیارنٹی کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن جس انداز میں فیصلے کیے گئے اس سے چیف منسٹر نے حلیف جماعت کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بدلے میں مقامی جماعت انتخابات میں انہیں مسلمانوں کے ووٹ دلانے کی کوشش کرے گی۔ اس طرح جائزہ اجلاس کے نام پر دونوں نے ایک دوسرے کے ’’کانوں کو خوش کرنے‘‘ کا کام کیا۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کے مسئلہ پر جب اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا تھا قائد مقننہ نے دورۂ لندن کو ترجیح دی اور مسلمانوں سے متعلق اس اہم مسئلہ پر اظہار خیال کے لیے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اتنا ہی نہیں پارٹی کے صدر نے بھی تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کو کوئی مشورہ نہیں دیا۔ آخر کار یہ مسئلہ محض قرارداد کی شکل میں مرکز سے رجوع کردیا گیا اور نریندر مودی حکومت سے تحفظات کی فراہمی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ قانون کے ماہر صدرنے چیف منسٹر کو آج تک یہ تجویز پیش نہیں کی کہ تحفظات پر عمل آوری کے لیے جی او جاری کردیا جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کے اعلی سطحی اجلاس میں مقامی قیادت نے تحفظات کے مسئلہ کو نہیں چھیڑا۔ اگر یہ مسئلہ زیربحث آتا تو ضرور چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں شامل ہوتا۔ مسلم تحفظات پر عمل آوری کی صورت میں ایک لاکھ مسلم نوجوانوں کا مستقبل سنورسکتا ہے۔ اجلاس میں مقامی جماعت کے صدر نے جس طرح چیف منسٹر کی ستائش کی اس سے صاف ظاہر ہے ہورہا تھا کہ ان کی ستائش کے پس پردہ سیاسی مقصد براری ہے۔ یہ وہی مقامی جماعت ہے جس نے ہر چیف منسٹر کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اختیار کیا اور جب کبھی انہیں حکومت سے مفاہمت کرنی ہوتی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے۔ اقامتی اسکولوں کے قیام کو تاریخی قرار دینے والی یہ قیادت کل تک وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی ستائش کرتی رہی۔ تحفظات کی فراہمی اور فیس بازادائیگی اسکیم کے سلسلہ میں راج شیکھر ریڈی کی اسی طرح تعریف کی گئی۔ کانگریس پارٹی چوں کہ مقامی جماعت کے لیے شہر میں خطرہ بنتی جارہی ہے لہٰذا اس کے چیف منسٹر کے اچھے کاموں کو بھی فراموش کردیا گیا اور منہ دیکھی تعریف کی طرح چیف منسٹر کے سامنے مدح سرائی کی گئی جس کا تذکرہ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کیا گیا ہے۔ متحدہ آندھرا کے آخری چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے جب حج ہائوز کی تعمیر کے لیے اراضی اور 10 کروڑ روپئے منظور کیے تھے اس وقت اسی جماعت نے انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا تھا۔ تلنگانہ جدوجہد کے دوران آندھراپردیش کی تقسیم کی مخالفت اور گریٹر رائلسیما کی تجویز پیش کرنے والی یہ جماعت ریاست کے قیام کے بعد اچانک تلنگانہ کی ہمدرد اور ٹی آر ایس کی حلیف بن گئی۔ ٹی آر ایس سے وابستہ کئی سینئر قائدین اور وزراء خود بھی مقامی جماعت کے اس موقع پرستانہ موقف پر حیرت میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جائزہ اجلاس میں موجود عہدیدار بھی شہر کے قائدین کی جانب سے چیف منسٹر کی مدح سرائی کرتے ہوئے دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ ویسے بھی عہدیداروں کے لیے یہ کوئی نیا نہیں تھا۔ انہوں نے سابق چیف منسٹرس کے سامنے ان قائدین کو تعریف و توصیف کرتے ہوئے دیکھا اور سنا تھا۔ چیف منسٹر نے لوک سبھا حیدرآباد حلقہ کے 8 اسمبلی حلقہ جات میں خصوصی ترقیاتی فنڈ کے تحت 41 کروڑ 70 لاکھ روپئے کی منظوری دی اور جی او کی اجرائی بھی فوری طور پر عمل میں آئی۔ اقلیتی بہبود پر اجلاس کی طلبی کے موقع پر صرف مقامی حلیف جماعت کے برادران کی موجودگی سے پارٹی سے وابستہ اقلیتی عوامی نمائندوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ چیف منسٹر پارٹی سے وابستہ ارکان مقننہ کو بھی اجلاس میں شریک کرتے تاکہ وہ خود بھی حکومت کو اقلیتوں کے حق میں مفید مشوروں سے نوازتے۔ چیف منسٹر نے صرف ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کو اجلاس میں شریک رکھا جو کہ ان کی مجبوری ہے۔ مقامی جماعت کے پسندیدہ مسلم عہدیداروں کو بھی اجلاس میں شریک رکھا گیا جبکہ دیگر اداروں کے عہدیداوں کو اطلاع نہیں دی گئی۔ جائزہ اجلاس میں چوں کہ وقف اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے امور پر غور کیا گیا لہٰذا ان اداروں کے صدور نشین کو مدعو کیا جاسکتا تھا۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکان مقننہ محمد سلیم، فاروق حسین، فرید الدین اور عامر شکیل کو چیف منسٹر نے اجلاس سے دور رکھتے ہوئے یہ پیام دیا ہے کہ ان کے نزدیک پارٹی کے اقلیتی قائدین سے زیادہ حلیف جماعت کی اہمیت ہے۔

TOPPOPULARRECENT