Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو قرضہ جات کے معاملہ میں لاپرواہی و تساہل

اقلیتوں کو قرضہ جات کے معاملہ میں لاپرواہی و تساہل

محکمہ اقلیتی بہبود کا دیگر محکمہ جات کی شرائط پر انحصار ، درخواست گزاروں کا نقصان ، بجٹ ضائع ہوجانے کا خدشہ

محکمہ اقلیتی بہبود کا دیگر محکمہ جات کی شرائط پر انحصار ، درخواست گزاروں کا نقصان ، بجٹ ضائع ہوجانے کا خدشہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتوں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے کئے گئے وعدے سابقہ حکومتوں کی طرح صرف انتخابی وعدے ثابت ہورہے ہیں ۔ حکومت نے اقلیتوں کو قرضہ جات کی اجرائی کے معاملہ میں بڑی دھوم دھام سے ایک لاکھ روپئے سبسیڈی کی اجرائی کے اعلانات کے ساتھ لون میلہ کا انعقاد کرتے ہوئے آندھرا پردیش ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے درخواستیں وصول کی گئی تھیں لیکن مالیاتی سال 2014-15 کے دوران موصولہ ایک بھی درخواست کو تاحال منظور نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی غور کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کو اقلیتوں سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے بجٹ 2014-15 کے لیے محکمہ اقلیتی بہبود کو 1030 کروڑ روپئے کی تخصیص کا اعلان کیا تھا اور اس میں 95 کروڑ روپئے اقلیتی نوجوانوں کو قرضہ جات پر سبسیڈی فراہم کرنے کے لیے مختص کئے گئے تھے ۔ ان 95 کروڑ کو 2014-15 کے دوران خرچ کیا جانا لازمی ہے بصورت دیگر یہ بجٹ نا قابل استعمال ہوجانے کا خدشہ ہے ۔ لیکن حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بجٹ کے استعمال کے لیے کوششوں کے بجائے دوسرے محکمہ جات بالخصوص محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے عائد کردہ شرائط پر انحصار کیا جارہاہے ۔ جس سے ریاست کے ہزاروں درخواست گزاروں کا نقصان ہورہا ہے ۔ 2013-14 کے دوران حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے قرضہ جات و سبسیڈی کے لیے آن لائن اور آف لائن درخواستیں وصول کی گئی تھیں لیکن حکومت تلنگانہ کے محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے 16 دسمبر 2014 کو جاری کئے گئے جی او آر ٹی نمبر 165 میں اس بات کی ہدایات دی گئی ہیں کہ 2013-14 میں جن درخواست گزاروں نے سبسیڈی والے قرضہ جات کے لیے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ ان کی از سر نو تحقیق و تصدیق کے بعد انہیں سبسیڈی جاری کی جائے ۔ ان احکامات کے ساتھ جو بجٹ مختلف کارپوریشنس کو مختص کیا گیا ہے اس کا استعمال 2013-14 کی سبسیڈی کی اجرائی کے لیے ہوگا لیکن اس سبسیڈی کی اجرائی میں جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہورہا ہے وہ ہے آن لائن درخواستوں کے ادخال کا مسئلہ ہے جس کے سبب زائد از 5 ہزار درخواستوں کے رد ہونے کا خدشہ ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے آن لائن درخواست گزاروں کو سبسیڈی کی رقم جاری کی جارہی ہے اور یہ استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ جو درخواستیں آف لائن داخل کی گئی ہیں انہیں آن لائن نہیں کیا جاسکتا چونکہ آندھرا پردیش ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا کنٹرول ’ سنٹر فار گوڈ گورننس ‘ کے پاس ہے اور جب تک اس محکمہ کی جانب سے جزوقتی طور پر ویب سائٹ کھولی نہیں جاتی اس وقت تک درخواستیں آن لائن کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوسکتا ۔ مالی سال 2014-15 کے اختتام کے لیے اب صرف ایک مہینہ کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے تو ایسی صورت میں محکمہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کے استعمال پر سوالیہ نشان لگائے جانے لگے ہیں لیکن اب سال 2014-15 کے اختتام پر سال 2013-14 کی درخواستوں کی یکسوئی کی جارہی ہے تو ایسے میں 2014-15 کی میلوں کے انعقاد کے ذریعہ موصولہ درخواستوں کا حشر کیا ہوگا آیا ان کی یکسوئی ہوگی یا پھر ان درخواستوں پر بھی مختلف شرائط عائد کرتے ہوئے رد کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے مختص کردہ 95 کروڑ برائے سبسیڈی لون کے مکمل استعمال کو عہدیدار و حکومت چاہے تو یقینی بناسکتی ہے اور 95 کروڑ کی درخواستوں کی یکسوئی کے ذریعہ اس مد کے لیے مختص کردہ بجٹ خرچ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی و اجازت ناگزیر ہے ۔ 2014-15 میں قرض کے لیے درخواست داخل کرنے والوں کی درخواستوں کی یکسوئی کے فوری احکامات کی اجرائی کی صورت میں 95 کروڑ استعمال میں لائے جاسکتے ہیں اور اس کے لیے تیز رفتار تنقیح اور کارپوریشن میں موجود رخواستوں کو آن لائن کرنے کے عمل کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT