Tuesday , December 11 2018

اقلیتوں کو قرض سے متعلق بینکرس کمیٹی کا جھوٹا دعویٰ

حیدرآباد۔/5 جنوری(سیاست نیوز) کیا آپ کو یقین آئے گا کہ ہماری ریاست کے بینکوں نے جاریہ مالی سال کے دوران /30 ستمبر 2013 تک اقلیتوں کو 13,583.33 کروڑ روپے کے قرضہ جات تقسیم کرچکے ہیں۔ اگر واقعی اتنی خطیر رقم تقسیم کی جاچکی ہوتی تو یقیناً ایک خوش آئند بات ہوتی مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ ادعا ہے کہ ساری ریاست کے بینکوں نے مسل

حیدرآباد۔/5 جنوری(سیاست نیوز) کیا آپ کو یقین آئے گا کہ ہماری ریاست کے بینکوں نے جاریہ مالی سال کے دوران /30 ستمبر 2013 تک اقلیتوں کو 13,583.33 کروڑ روپے کے قرضہ جات تقسیم کرچکے ہیں۔ اگر واقعی اتنی خطیر رقم تقسیم کی جاچکی ہوتی تو یقیناً ایک خوش آئند بات ہوتی مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارا تو یہ ادعا ہے کہ ساری ریاست کے بینکوں نے مسلمانوں کو 10 کروڑ روپے کے قرضہ جات فراہم نہیں کئے ہیں چونکہ بیشتر بینکوں نے مسلمانوں کو قرضہ جات فراہم نہ کرنے کی مخفی پالیسی کو اختیار کر رکھا ہے۔ جو کچھ بھی رقم بطور قرض مسلمانوں کو بینکوں کے ذریعہ تقسیم کی گئی وہ یا تو اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی بینک حامل اسکیمات کے تحت دی گئی یا پھر سونا رہن رکھنے کے عوض دی گئی۔ یاد رہے کہ مرکزی وزارت فینانس اور ریزرو بینک آف انڈیا کے احکام کی روشنی میں ترجیحی شعبہ جات کے تحت فراہم کئے جانے والے قرضہ جات میں اقلیتوں کو 15% تک مختص کرنا ہے۔ ریاست میں جاریہ مالی سال کے دوران 99,894 کروڑ روپے ترجحیی شعبہ کے قرضہ جات کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے، اس لحاظ سے اقلیتوں میں مالی سال کے اختتام تک 14,984.1 کروڑ روپے تقسیم کرنا ہے۔ مسلمانوں کی سیاسی و ملی قیادت کے تساہل کا فائدہ اٹھاکر نہ صرف حکومتیں بلکہ بینکرس بھی مسلمانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ بینکرس اگرچہ یہ ادعا کررہے ہیں کہ ترجیحی شعبہ جات کے تحت اقلیتوں کو 13,583.33 کروڑ روپے کے قرضہ جات ادا کئے گئے ہیں مگر اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے ذریعہ بینکرس اور حکومت دونوں ہی مسلمانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں اور فریب دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بینکوں کے حسابات میں ایک پیسہ کی بھی کمی و بیشی نہیں کی جاتی مگر ہمارے بینکرس کروڑوں روپے اقلیتوں میں تقسیم کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ جس کی مثال اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں پیش کردہ اعداد و شمار ہیں۔

بینکرس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کردہ ایجنڈہ اور بیاک گراؤنڈ نوٹس کے مطابق ریاست میں ترجیحی شعبہ کے تحت مجموعی قرضہ جات کی فراہمی کا نشانہ 99,894 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اقلیتوں کے لئے مقررہ 15% نشانہ کے حساب سے 14,984.1 کروڑ روپے تقسیم کرنا ہے۔ ایک مقام (صفحہ نمبر 38 ) پر یہ ادعا کیا جاتا ہے کہ اقلیتی برادری میں 13,583.33 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے ہیں اور اسی صفحہ پر بتایا جاتا ہے کہ یہ ترجیحی شعبہ کے تحت قرضہ جات کا 6.03% ہے جبکہ معینہ نشانہ 15% ہے۔ بینکرس کو یہ کون بتائے کہ 99894 کروڑ روپے کا 6.03% صرف 6023.60 کروڑ روپیہ ہی ہوتا ہے نہ کہ 13,583.33 کروڑ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ بینکرس نے 13,583.33 کروڑ روپے تقسیم کئے ہیں تو وہ ترجیحی شعبہ کی مجموعی تخصیص کا 6.03% نہیں بلکہ 13.59% ہوتا ہے جو مقررہ نشانہ 15% کے نہایت ہی قریب ہے۔ اس صفحہ پر جہاں یہ بتایا گیا کہ اقلیتوں میں 13,583.33 کروڑ روپے قرض دیا گیا وہیں صفحہ نمبر 183-184 پر اقلیتوں کو بینک واری پیشگیوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اسی رقم یعنی 13,583.33 کروڑ روپے کو اقلیتوں سے وصول طلب رقم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اب بینکرس اور حکومت ہی بتائے کہ آیا بینکرس نے 13,583.33 کروڑ روپے تقسیم کئے ہیں یا اقلیتوںکی واجبات ہیں۔ درحقیقت بینکرس پیشگیوں، واجبات اور قرض تقسیم کی اصطلاحات سے کھیلتے ہوئے دھوکہ دے رہے ہیں۔ بینکرس کی جانب سے اعداد و شمار کے فریب کو سمجھنے کے لئے پچھلے برسوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اس دستاویز کے صفحہ نمبر 38 پر پیش کردہ دیگر تفصیلات میں بتایا گیا کہ مارچ 2011 کے اختتامی برس میں اقلیتوں کی واجبات 11,727.52 کروڑ روپے، مارچ 2012 کے اختتامی برس میں 12,124.31 کروڑ روپے مارچ 2013 کے اختتامی برس میں 13,746.01 کروڑ روپے رہے ہیں اور ستمبر 2013 تک یہ واجبات 13,583.33 کروڑ روپے کے ہیں۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ مارچ 2013 تک اقلیتوں کے واجبات 13,746.01 کروڑ روپے ہیں تو ستمبر 2013 میں یہ گھٹ کر 13,583.33 کروڑ روپے ہوگئے ہیں۔ 13,746.01 کروڑ روپے پر مرکب سود کو شامل کرلیا جائے تو واجبات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ قرض نادہندگان کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جن کے قرضہ جات پر ہر سال مرکب سود کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب اگر اقساط کی ادائی اور سود کی شمولیت کے ساتھ ساتھ جیسا کہ ایک مقام پر یہ ادعا کیا گیا کہ ستمبر 2013 تک یعنی 6 ماہ میں 13,583.33 کروڑ روپے کے مزید قرض دئیے گئے تو ستمبر 2013 تک سود کی شمولیت اور اقساط کی ادائی کے شمار کے بعد یہ واجبات 26,000 کروڑ روپیے سے زائد ہوجانے چاہئے مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مارچ تا ستمبر بینکوں سے مسلمانوں کو حقیر قرض دیا گیا جو 10 کروڑ سے متجاوز نہیں ہوگا مگر مسلمانوں نے اپنی اقساط کے ذریعہ بینکوں کو 162.68 کروڑ روپے ادا کئے ہیں۔ اسی لئے واجبات میں کمی آئی ہے۔ ضرورت ہے کہ بینکرس کے ان دعوؤں کا ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ذریعہ تحقیقات کی جائے تاکہ یہ حقیقت آشکار ہوسکے کہ حقیقتاً بینکرس نے اقلیتوں میں کتنے کروڑ روپے بطور قرض تقسیم کئے ہیں۔ ہم جو 10 کروڑ روپے قرضہ جات کا اندازہ کررہے ہیں اس میں بھی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اسکیم کے تحت فراہم کردہ 4.71 کروڑ روپے سبسیڈی کے حامل قرضہ جات اور کچھ سونا رہن رکھنے کے عوض دئیے گئے قرضہ جات ہوں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قانون حق آگہی کے تحت طلب کردہ معلومات میں ریاست کے لیڈ بینک نے تفصیلات کی عدم موجودگی کا اقرار کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف کاغذی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT