Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار کیلئے مائکرو فینانسنگ اسکیم کی تجویز

اقلیتوں کو چھوٹے کاروبار کیلئے مائکرو فینانسنگ اسکیم کی تجویز

سکریٹری اقلیتی بہبود دانا کشور کی جماعت اسلامی اور دیگر تنظیموں کے ذمہ داروں سے ملاقات
حیدرآباد۔ 18جنوری (سیاست نیوز) اقلیتی طبقہ کے غریب افراد کو خودروزگار اسکیمات سے مربوط کرنے کے لیے حکومت اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ مائیکرو فینانسنگ اسکیم متعارف کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود ایم دانا کشور نے آج مختلف رضاکارانہ تنظیموں کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ان کی جانب سے چلائی جارہی امدادی اسکیمات کا جائزہ لیا۔ جماعت اسلامی کے تحت ہیومن ویلفیر فائونڈیشن نے ریاست کے 19 مقامات پر خدمت اور سیوا کے عنوان سے مائیکرو فینانسنگ کی اسکیم شروع کی ہے جس پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت غریبوں کو چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسودی قرض یا پھر تجارتی سامان فراہم کیا جاتا ہے اور مقررہ شرائط کے تحت استفادہ کنندگان رقم واپس کرتے ہیں۔ 50 روپئے سے اس اسکیم کی رکنیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسکیم کے تحت قرض یا تجارتی سامان حاصل کرنے والے افراد مقررہ وقت پر رقم ادا کررہے ہیں۔ خدمت اور سیوا اسکیمات کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو تفصیلات سے واقف کروایا۔ کریم نگر، سدی پیٹ، سداشیو پیٹ، نظام آباد اور محبوب نگر میں سینکڑوں افراد ان اسکیمات سے وابستہ ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کارپوریشن کے ذریعہ اسکیمات کے آغاز کے لیے جماعت اسلامی اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں کے ذمہ داروں سے مشاورت کی۔ بی شفیع اللہ آئی ایف ایس اور دیگر عہدیداروں کی موجودگی میں جماعت اسلامی کو ذمہ داروں جناب حامد محمد خان، جناب محمد اظہر الدین، جناب عبدالجبار صدیقی اور دوسروں نے پاورپوائنٹ پریزنٹشین کے ذریعہ اسکیمات اور ان پر عمل آوری کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاسودی قرض کی یہ اسکیم غریب مسلمانوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے اور اقلیتی فینانس کارپوریشن بینکوں سے مربوط اسکیم کے بجائے اس اسکیم پر عمل کرسکتا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے۔ مسلمانوں میں غربت کے خاتمہ کے لیے کارپوریشن سے راست قرض فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ سدی پیٹ اور دیگر مقامات پر این جی اوز کے اشتراک سے چھوٹے کاروبار کے لیے قرض فراہم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کو ریاست کے دیگر علاقوں میں توسیع دینے کی تجویز ہے۔ دانا کشور نے اقلیتوں کی پسماندگی پر تاسف کا اظہار کیا اور کہا کہ موثر اسکیمات کے ذریعہ پسماندگی دور کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اقامتی اسکولوں کے قیام کا حوالہ دیا اور کہا کہ غریب اقلیتی طلبہ کے لیے مفت تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ طرز کی تعلیم مفت فراہم کی جارہی ہے۔ اسکولوں میں بنیادی معیاری سہولتیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی اور دیگر تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں تعاون کریں۔

TOPPOPULARRECENT