Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کا وعدہ پورا کیا جائے

اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کا وعدہ پورا کیا جائے

حکومت پر مختلف بہانوں کے ذریعہ وعدہ خلافی کا الزام ، کے جانا ریڈی کا بیان

حکومت پر مختلف بہانوں کے ذریعہ وعدہ خلافی کا الزام ، کے جانا ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں اور درج فہرست قبائیل کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر عمل آوری کی وضاحت کرے۔ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں اُلجھن کا شکار ہے اور مختلف بہانوں کے ذریعہ وعدوں کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کو اپنی پیشرفت سے عوام کو واقف کرانا چاہیئے۔ جانا ریڈی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تحفظات کے سلسلہ میں ریٹائرڈ جج پر مشتمل کمیشن کی تشکیل کے بارے میں انہیں اطلاع ملی ہے اور حکومت سے جاننا چاہتے ہیں کہ کمیشن اپنی رپورٹ کب پیش کرے گا۔ جانا ریڈی نے کہا کہ تحفظات پر عمل آوری کانگریس دور حکومت میں ممکن ہوسکی اور کئی قانونی رکاوٹوں کے بعد 4فیصد تحفظات پر عمل کیا گیا۔ ٹی آر ایس حکومت اب کس طرح 12فیصد تحفظات پر عمل کرپائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحفظات کے حق میں ہیں تاہم چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے وعدہ وفا کرے۔ جانا ریڈی نے بجٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کو محض انتخابی وعدوں کے مطابق عوام کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ مالیاتی سال کی تکمیل کیلئے صرف تین ماہ باقی ہیں لہذا بجٹ میں مختص کردہ رقم کا خرچ ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کریں اور عوام کی توقعات کے مطابق حکمرانی کو یقینی بنائے۔ عوام نے نئی ریاست میں کئی توقعات وابستہ کی ہیں اور ٹی آر ایس کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی توقعات پر پورا اُترے۔ جانا ریڈی نے یقین دلایا کہ عوامی وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں کانگریس مکمل تعاون کرے گی۔ قائد اپوزیشن نے کسانوں کے قرض کی معافی کے اعلان کو غیر واضح قرار دیا اور کہا کہ ابھی تک کسانوں کے قرضوں کی معافی کا آغاز نہیں ہوا۔ حکومت نے ایک لاکھ روپئے تک کہ قرض کی معافی کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں اسے صرف زرعی قرض سے مربوط کردیا گیا۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ کسانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ حکومت پر تنقید کے سلسلہ میں بھلے ہی انہیں تلنگانہ کا غدار کہا جائے لیکن حکومت کو چاہیئے کہ وہ وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں عوام سے غداری نہ کرے۔ اس مرحلہ پر وزیر فینانس نے مداخلت کی اور جانا ریڈی کے ریمارکس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے ساتھ مکمل انصاف کرے گی جنہوں نے طویل جدوجہد کے بعد علحدہ ریاست حاصل کی ہے۔ جانا ریڈی نے درج فہرست اقوام و قبائیل اور اقلیت کے غریب خاندانوں کے دیگر قرضہ جات کی معافی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ کانگریس دور حکومت میں مستحق غریب خاندانوں کے دیگر قرضہ جات معاف کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت جن پراجکٹس پر اپنی دعویداری پیش کررہی ہے دراصل وہ کانگریس دور حکومت کے منظور کردہ ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے میٹرو ریل، آئی ٹی، آئی آر پراجکٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ چیف منسٹر نے گزشتہ دنوں ملکاجگری میں شہر کو پانی کی سربراہی کی اسکیم کا سنگ بنیاد رکھا جبکہ یہ اسکیم کانگریس کے دور میں منظور کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی منظورہ اسکیمات اور پراجکٹس کا سہرا ٹی آر ایس حکومت اپنے سر باندھ رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT