Thursday , December 13 2018

اقلیتوں کیلئے صد فیصد سبسیڈی اسکیم کی عنقریب منظوری

تعلیمی و معاشی ترقی حکومت کی ترجیح، خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم، وزیر فینانس ای راجندر کا خطاب
حیدرآباد۔/3 فبروری، ( سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے تیقن دیا کہ اقلیتوں کیلئے صد فیصد سبسیڈی پر مبنی اسکیم کو جلد منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کی زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کیلئے فنڈز جاری کرنے کا تیقن دیا۔ وزیر فینانس آج اپنے اسمبلی حلقہ حضورآباد میں مسلم خواتین میں سلائی مشین کی تقسیم کے بعد خطاب کررہے تھے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ 300 خواتین میں سلائی مشین کی تقسیم عمل میں آئی اور اس اسکیم کے تحت خواتین کو خود مکتفی بنایا جاسکتا ہے اور معاشی مسائل کی یکسوئی ہوسکتی ہے۔ حضور آباد میں سابق میں 100 مشینوں کی تقسیم عمل میں آئی تھی تاہم صدر نشین کارپوریشن سید اکبر حسین کی مساعی سے مزید 300 مشینیں تقسیم کی گئیں۔ ای راجندر نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سی آر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت نے ابھی تک کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے جو درخواستیں زیر التواہیں انکی یکسوئی کیلئے بہت جلد فنڈز جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکوں سے کسی تعلق کے بغیر صد فیصد سبسیڈی فراہم کرنے سے متعلق اسکیم کو حکومت کی منظوری باقی ہے۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے اقلیتی امیدواروں کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کو متحرک کرتے ہوئے اس کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اقلیت دوست ہے اور گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے کئی منفرد اسکیمات کا آغاز کیا جن پر کامیابی سے عمل آوری کی جارہی ہے۔ راجندر نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں سیما آندھرائی حکمرانوں نے اقلیتوں کی ترقی کو نظرانداز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر اور ٹی آر ایس کے قائدین عوام کے درمیان رہے اور وہ عوامی ضرورتوں اور مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں لہذا حکومت کی تشکیل کے بعد عوام کی ضرورت کے مطابق اسکیمات کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ فلاحی اسکیمات میں ملک میں سرفہرست ہے۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پسماندگی کے اعتبار سے مسلم اقلیت دیگر طبقات سے کہیں زیادہ پسماندہ ہے اور حکومت نے تحفظات کے بشمول مختلف اسکیمات کو متعارف کیا ہے۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن سید اکبر حسین نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتوں کی ترقی کیلئے جن اسکیمات کا آغازکیا اس کی مثال کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ گزشتہ تین برسوں میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سبسیڈی کی اجرائی اسکیم پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے چیف منسٹر سے بجٹ کیلئے نمائندگی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر بینکوں سے کسی تعلق کے بغیر اقلیتوں کو راست سبسیڈی فراہم کرنے کے حق میں ہے۔ آئندہ مالیاتی سال سے نئی اسکیم پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور سے مرکزی اسکیمات کیلئے تلنگانہ کو زائد بجٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تقریب میں منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ کی عدم شرکت پر وزیر فینانس نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT