Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / اقلیتوں کیلئے مختص فنڈس کو دیانتداری سے خرچ کرنے کی ضرورت

اقلیتوں کیلئے مختص فنڈس کو دیانتداری سے خرچ کرنے کی ضرورت

مرکزی وزارت اقلیتی بہبود کے ’ مختار کُل ‘ بننے کے بعد مختار عباس نقوی کی نصیحت
نئی دہلی، 14 جولائی، (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور کے (آزادانہ چارج) و پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے آج یہاں کہا کہ محض وزارت میں بیٹھ کر کاغذ اور کمپیوٹر سے ترقی کا تانا بانا بنا نا ہی کافی نہیں بلکہ افسروں کو زمین پر اتر کر لوگوں کو با اختیار بنانے کے لئے مودی حکومت کے عزم کا یقین دلانا ہوگا۔مسٹر نقوی نے اقلیتی وزارت کے سینئر افسروں کی ایک میٹنگ میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا اثر جس طرح دیگر علاقوں میں زمین پر صاف نظر آرہا ہے اورترقی اور اعتماد کا ماحول بنا ہے ، ویسا ہی ترقی اور اعتماد کا ماحول اقلیتوں کے درمیان بھی نظر آنا چاہئے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ آئندہ پارلیمانی اجلاس کے بعد تمام ریاستوں میں اقلیتوں کو اقتصادی ، سماجی اور تعلیمی طور پر مضبوط بنانے کے منصوبوں کا “گراؤنڈ زیرو” پر پہنچ کر جائزہ لیں گے ۔ ہمیں غریبوں کی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پوری طاقت اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا. وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیں غریبوں کی ترقی کا جو “بلیو پرنٹ” دیا ہے ، ہمیں اس کے تحت ترقی کی عمارت کو ایسے بنانا ہے جس سے غریبوں کو “خوشحالی اور تحفظ” کا پختہ احساس ہو اور وہ ترقی کے قومی دھارے میں برابر کے حصہ دار بن سکیں۔

مسٹر نقوی نے کہا کہ ہم نے ریاستی حکومتوں سے رابطہ کرکے بات چیت کے ذریعے مرکزی حکومت کے منصوبوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لئے کام شروع کر دیا ہے ۔کئی ریاستی حکومتوں اور ا ن کے وزراء سے ترقیاتی اسکیموں کے نفاذ کے سلسلہ میں بات ہوئی ہے ، جلد ہی ان ریاستوں میں جا کر ان کے تعاون سے اقلیتوں کو مضبوط بنانے کے مشن کو رفتاردیں گے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اقلیتوں کی بہبود کے لئے فنڈ کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ہمیں صرف اس رقم کو پوری ایمانداری سے خرچ ہوگا تاکہ سماج کے آخری ضرورت مند تک ترقی کی روشنی پہنچائی جا سکے ۔ مسٹر نقوی نے کہا کہ حکومت تمام منصوبوں پر گہری نظر رکھے گی تاکہ یہ منصوبے زمینی سطح پر نافذ کئے جا سکیں۔اس کام میں افسروں کا اہم رول ہوگا۔مسٹر نقوی نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرانا، انہیں بہتر روزگار کے مواقع دینا ان کی پہلی ترجیح ہوگی. “ہمیں اقلیتی غریبوں کی ترقی کو رسمی سمجھنے کے بجائے اسے اپنا فرض سمجھ کر کام کرنا ہوگا”. گزشتہ کئی دہائیوں سے اقلیتوں کی ترقی کے کاموں کو رسمی زمرے میں رکھا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی ترقی اور خوشحال زندگی کے ذریعہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے بجائے وہ خط افلاس کے نیچے چلے گئے ۔ لیکن ہمیں سجاوٹی سیاسی سوچ” سے اوپر اٹھ کر غریبوں کو با اختیار بنانے کے عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT