Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کیلئے معاشی سبسیڈی کی اسکیم کا جلد اعلان:ای راجندر

اقلیتوں کیلئے معاشی سبسیڈی کی اسکیم کا جلد اعلان:ای راجندر

تلگو کو لازمی قرار دینا عربی سے ناانصافی نہیں، پرانے شہر کیلئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ نامنظور، اسمبلی سے بی جے پی ، تلگو دیشم اور سی پی ایم کا واک آؤٹ
حیدرآباد ۔ 20 ۔مارچ (سیاست نیوز) وزیر فینانس ای راجندر نے اعلان کیا کہ اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی معاشی ترقی کیلئے سبسیڈی سے متعلق اسکیم کا جلد ہی چیف منسٹر کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں خود روزگار اسکیمات سے متعلق سبسیڈی اسکیم کے تحت معمولی رقم دی جاتی تھی، حکومت نے نئی اسکیم تیاری کی ہے جس کے تحت سبسیڈی کی رقم زیادہ ہوگی۔ پرگتی بھون میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بہت جلد اسکیم کا آغاز کریں گے۔ وزیر فینانس آج اسمبلی میں بجٹ پر مباحث کا جواب دے رہے تھے۔ بی جے پی ، تلگو دیشم اور سی پی ایم نے بجٹ کو عوام کی توقع کے برخلاف قرار دیتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ وزیر فینانس نے پرانے شہر کی ترقی کیلئے 5000 کروڑ کے خصوصی پیاکیج سے متعلق بی جے پی کے مطالبہ کو نامنظور کردیا ۔ تاہم تیقن دیا کہ حکومت نئے شہر کی طرز پر پرانے شہر کو ترقی دے گی۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کی عدم اجرائی کی شکایت پر بتایا کہ جاریہ سال 1200 کروڑ کے منجملہ 994 کروڑ 67 لاکھ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں۔ بجٹ پر مباحث کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس نے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی مختلف فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عوامی منظوری کا دعویٰ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی بھلائی پر جو بجٹ خرچ کر رہی ہے ، اس سے آئندہ تلنگانہ میں دوسری سیاسی جماعتوں کیلئے کوئی موقع نہیں رہے گا۔ انہوں نے پرانے شہر کی ترقی اور اقلیتوں کی دیگر طبقات کے مساوی بھلائی کے اقدامات کا تیقن دیا۔ بی جے پی اور حکومت کی حلیف مقامی جماعت دونوں نے پرانے شہر کیلئے خصوصی پیاکیج کی مانگ کی جسے منظور نہیں کیا گیا ۔ کشن ریڈی نے یہ کہتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا کہ حکومت حیدرآباد کی ترقی کیلئے بجٹ مختص کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ حیدرآباد سے ریاست کے خزانہ کو جملہ آمدنی کا 70 فیصد حاصل ہوتا ہے اور حیدرآباد میں ریاست کی آبادی کے 30 فیصد عوام بستے ہیں۔ اس کے باوجود حیدراباد کو نظر انداز کردیا گیا۔ وزیر فینانس نے کہا کہ ٹی آر ایس نے چار برسوں میں حیدرآباد میں برقی اور پانی کے مسائل کی یکسوئی کردی ہے ۔ اس کے علاوہ غنہ عناصر اور غیر سماجی سرگرمیوں پر قابو پاتے ہوئے بہتر لاء اینڈ آرڈر کو یقینی بنایا گیا۔ عوام کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں حکومت کے اقدامات پر عوام کو بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں تلنگانہ کو کرناٹک اور ٹاملناڈو کے بعد تیسرا مقام حاصل ہے۔ بہت جلد تلنگانہ کے شعبہ میں سرفہرست ہوجائے گا۔ راجندر نے کہا کہ ایم ایل ایز کو ترقیاتی فنڈ کے طور پر تین کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے خرچ کے سلسلہ میں مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں جبکہ سابق میں اس طرح کے اختیارات نہیں تھے ۔ حکومت کسی بھی اسکیم پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر عمل کر رہی ہے ۔ انہوں نے بی جے پی ارکان کو اضلاع کے دورہ کی دعوت دی تاکہ دیہی سطح پر ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سیول سپلائیز کے تحت ایک کرؤر 91 لاکھ افراد کیلئے چاول سربراہ کر رہی ہے ۔ جبکہ تلنگانہ حکومت 2 کروڑ 74 لاکھ افراد کو ایک روپئے فی کیلو چاول کے حساب سے فی کس 6 کیلو چاول سربراہ کر رہی ہے ۔ گزشتہ چار برسوں میں چیف منسٹر کے سی آر کی قیادت میں ریاست نے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو زبان کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکومت دیگر زبانوں سے ناانصافی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ تلگو کو انٹرمیڈیٹ تک لازمی قرار دیتے ہوئے عربی ، ہندی ، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے سلسلہ میں ارکان کے اندیشے غیر ضروری ہے۔ حکومت نے اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ چیف منسٹر کی قیادت میں کمیٹی یہ فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پرانے اور نئے شہر کے نظریہ سے نہیں سوچتی بلکہ حیدرآباد کی ترقی اس کا مقصد ہے۔ وزیر فینانس کے جواب سے غیر مطمئن بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے اپنے ساتھی ارکان کے ساتھ واک آؤٹ کیا جبکہ تلگو دیشم کے ایس وینکٹ ویریا اور سی پی ایم کے سونم راجیا نے بھی واک آؤٹ کیا۔

TOPPOPULARRECENT