Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی آبادی کی بنیاد پر اقلیتی اداروں کی تقسیم

اقلیتوں کی آبادی کی بنیاد پر اقلیتی اداروں کی تقسیم

تلنگانہ کو 58 اور آندھرا پردیش کو 42 فیصد حصہ داری ممکن ، چیف سکریٹری کے جائزہ اجلاس میں غور و خوض

تلنگانہ کو 58 اور آندھرا پردیش کو 42 فیصد حصہ داری ممکن ، چیف سکریٹری کے جائزہ اجلاس میں غور و خوض
حیدرآباد۔/3جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی اداروں کی تقسیم کے سلسلہ میں اضلاع کی تعداد کی بجائے اقلیتوں کی آبادی کو بنیاد بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ چیف سکریٹری تلنگانہ ڈاکٹر راجیو شرما کے پاس منعقدہ مختلف محکمہ جات کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا۔ ریاست کے مختلف اداروں کی تقسیم کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس وقت کے چیف سکریٹری کو تجویز پیش کی تھی کہ دیگر محکمہ جات کیلئے طئے شدہ قواعد کا اقلیتی بہبود پر اطلاق نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ تلنگانہ میں چونکہ اقلیتوں کی آبادی زیادہ ہے لہذا آبادی کی بنیاد پر فنڈز، انفراسٹرکچر اور ملازمین کی تقسیم عمل میں لائی جانی چاہیئے۔ اس وقت حکومت نے اس تجویز کو منظوری نہیں دی تاہم نئی حکومت کے قیام کے بعد اب حکومت بھی اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اقلیتی اداروں کی تقسیم اضلاع کی بنیاد پر نہیں بلکہ آبادی کی بنیاد پر ہونی چاہیئے۔ حکومت نے جو شرائط مقرر کئے ہیں اس کے مطابق آندھرا پردیش کے 13اضلاع کی بنیاد پر تقسیم میں اسے 58فیصد حصہ دیا جائے جبکہ تلنگانہ میں 10اضلاع کے سبب اسے 42فیصد کا حصہ دار ہونا چاہیئے۔ تمام محکمہ جات کیلئے اگرچہ یہی اُصول کارفرما ہیں لیکن اقلیتی بہبود کیلئے توقع ہے کہ تلنگانہ کیلئے 58اور آندھرا پردیش کیلئے 42فیصد کی بنیاد پر تقسیم عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی آبادی تقریباً 45لاکھ سے زیادہ ہے جن میں مسلمان 39لاکھ 48 ہزار ہیں۔ اقلیتیں ریاست کی جملہ آبادی کا 12.36 فیصد ہیں۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں اقلیتوں کی آبادی تقریباً 40لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 8.76فیصد ہے۔ مسلمانوں کی آبادی آندھرا پردیش کی مجموعی آبادی میں 6.93فیصد ہے۔ دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کی آبادی کے اس فرق کو دیکھتے ہوئے حکومت تلنگانہ کو زائد حصہ داری پر غور کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT