Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی اسکیمات میں بے قاعدگیوں یا پہلوتہی پر سخت کارروائی کا انتباہ

اقلیتوں کی اسکیمات میں بے قاعدگیوں یا پہلوتہی پر سخت کارروائی کا انتباہ

ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور اقلیتی کارپوریشن کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹرس کا اجلاس ، سکریٹری و ڈائرکٹر کا خطاب
حیدرآباد۔/5نومبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی بہبود اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کو انتباہ دیا کہ اگر اسکیمات پر عمل آوری میں بے قاعدگی یا پھر سُست رفتاری کی جائے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر نے آج تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کا حیدرآباد میں اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں جاریہ اسکیمات پر عمل آوری اور عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ عہدیداروں نے واضح کردیا کہ حکومت بجٹ کے صحیح استعمال اور حقیقی مستحقین کو اسکیمات کے فوائد پہنچانے میں سنجیدہ ہے۔ اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف اضلاع بشمول حیدرآباد اور رنگاریڈی سے شکایات وصول ہونے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر ضلع کے انچارج عہدیدار اسکیمات میں شفافیت لانے میں ناکام رہیں تو انہیں قصوروار گردانا جائے گا۔ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری میں درمیانی افراد کے رول کو ختم کریں اور زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنائیں۔ عہدیداروں نے شہر اور اضلاع میں اسٹاف کی کمی کی شکایت کی جس پر سکریٹری اقلیتی بہبود اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ درکار اسٹاف کے حصول کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی ہے اور پہلے مرحلہ میں حیدرآباد میں 10رکنی زائد اسٹاف کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی سے زائد اسٹاف حاصل کیا جارہا ہے تاکہ زیر التواء درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کی جاسکے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اسٹاف کی صورتحال کے بارے میں چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما کو رپورٹ روانہ کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت ساری ریاست میں صرف 18 سپرنٹنڈنٹس اور 17کلرکس ہیں جبکہ محکمہ کو تقریباً 250تا280 اسٹاف کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری نے محکمہ مال اور دیگر محکمہ جات سے عبوری طور پر اسٹاف الاٹ کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ جائزہ اجلاس میں اعلیٰ عہدیداروں نے اسکیمات پر عمل آوری میں سُست رفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ تلنگانہ کے 7 اضلاع میں مستقل ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر موجود نہیں ہیں اُن کی جگہ فینانس کارپوریشن کے ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس یا مجالس مقامی کے عہدیداروں کو زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ عہدیداروں نے شہر اور اضلاع کے عہدیداروں کے مسائل کی سماعت کی اور انہیں یقین دلایا کہ زائد اسٹاف کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ہر ضلع میں تمام اسکیمات پر عمل آوری اور اُن کے اعداد و شمار طلب کئے گئے۔ اوورسیز اسکالر شپ کے علاوہ فیس باز ادائیگی، پوسٹ میٹرک اسکالر شپ، بینکوں سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اور دیگر اسکیمات کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ عہدیداروں نے عمل آوری کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت دی۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس اور ایکزیکیٹو ڈائرکٹرس کے ساتھ اجلاس تقریباً دن بھر جاری رہا۔ پہلے مرحلہ میں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے جائزہ لیا جبکہ دوپہر کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود اجلاس میں شریک ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT