Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ٹی آر ایس کا اقتدار ضروری

اقلیتوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ٹی آر ایس کا اقتدار ضروری

ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا دعویٰ،اپوزیشن پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس کو دوبارہ برسر اقتدار لائیں تاکہ اقلیتوں کے ہر گھر میں ترقی اور خوشحالی آسکے۔ محمود علی نے جگتیال اور کورٹلہ میں پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ انہوں نے پارٹی امیدواروں کے ہمراہ عام جلسوں سے خطاب کیا اور مقامی اقلیتی طبقہ کے ذمہ داروں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے۔ انہوں نے کہاکہ ہر اسمبلی حلقہ میں عوامی لہر ٹی آر ایس کے حق میں دکھائی دے رہی ہے۔ سماج کا ہر طبقہ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترقی کی رفتار سست نہ ہو اس کے لئے ٹی آر ایس کا دوبارہ برسر اقتدار آنا ضروری ہے۔ محمود علی نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کیلئے گزشتہ چار برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے تعلیمی اور معاشی ترقی کے جو قدم اٹھائے، اس کی مثال ملک کی کوئی اور ریاست پیش نہیں کرسکتی۔ کانگریس اور تلگو دیشم نے 57 برس تک اقلیتوں کو نظر انداز کیا۔ اقلیتوں کو محض زبانی وعدوں سے بہلانے کی کوشش کی گئی۔ محمود علی نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے گزشتہ چار برسوں میں منظم انداز میں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے قدم اٹھائے۔ ایسی اسکیمات شروع کی گئیں جن کے ذریعہ ہر غریب مسلمان کے گھر میں خوشحالی آسکتی ہے۔ محمود علی نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ اسی جذبہ کے تحت کے سی آر نے اقلیتوں کیلئے 204 اقامتی اسکول قائم کئے جہاں کارپوریٹ سہولتوں کے ساتھ مفت تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ کانگریس اور تلگو دیشم نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور تلگو دیشم اتحاد محض اقتدار کیلئے ہے، انہیں عوام کی خدمت سے زیادہ اقتدار عزیز ہے۔ محمود علی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عظیم اتحاد کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کے سی آر حکومت کی دوسری میعاد میں اقلیتوں کیلئے مزید نئی اسکیمات کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں ، غریبوں اور سماج کے ہر طبقہ کیلئے کے سی آر نے فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا۔ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں اس قدر فلاحی اسکیمات موجود نہیں جو تلنگانہ میں ہے۔ حیدرآباد کو فساد سے پاک کرتے ہوئے سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا گیا۔ گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں کے سی آر حکومت کا رول کسی کارنامے سے کم نہیں۔

TOPPOPULARRECENT