Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اقلیتوں کی ترقی سے کویتا کی عدم دلچسپی آشکار

اقلیتوں کی ترقی سے کویتا کی عدم دلچسپی آشکار

نظام آباد میں فنی تربیتی مرکز افتتاح کے چار ماہ بعد بند ، خواتین روزگار سے محروم

نظام آباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( محمد جاوید علی ) : اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی لاپرواہی اور رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا کی عدم دلچسپی کے باعث فنی تربیت حاصل کے باوجود بھی ابھی تک اسنادات کی عدم وصولی کے باعث سینکڑوں خواتین روزگار حاصل کرنے سے محروم کے علاوہ بڑے پیمانے پر اقلیتی فنی تربیتی مرکز کا قیام عمل میں لاتے ہوئے صرف چار ماہ میں بند کردیا گیا ۔ نظام آباد مالا پلی میں واقع گرلز جونیر کالج کی عمارت کو کار آمد بنانے کے مقصد کے تحت بڑے پیمانے پر اقلیتی فنی تربیتی مرکز برائے اناث کا افتتاح عمل میں لایا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ یہ جونیر کالج کی عمارت تعمیر 2008 میں عمل میں لائی گئی تھی لیکن اس کا افتتاح نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمارت خالی پڑی ہوئی تھی اور رکن پارلیمنٹ نظام آباد کویتا نے اس کا افتتاح عمل میں لاتے ہوئے کالج قائم کرنے کا تیقن بھی دیا تھا اور لڑکیوں کو ٹریننگ کے بعد گھر بیٹھے کام فراہم کرنے کا بھی عہدیداروں کی جانب سے تیقن دیا گیا ۔ بڑے پیمانے پر جنوری 2017 میں رکن پارلیمنٹ کے کویتا کے ہاتھوں سنٹر کا افتتاح عمل میں لایا گیا اور اس تقریب میں ٹی آر ایس کی حلیف جماعت مجلس بھی شریک تھی اور اور جلسے میں واضح طور پر کالج کے افتتاح سے متعلق بھی اعلان کیا گیا تھا اور ماہ جون جونیر کالج کا افتتاح کا بھی اعلان کیا گیا اور کالج کے افتتاح کے بعد اس سنٹر دوسری جگہ منتقل کرتے ہوئے سنٹر کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا اور افتتاح کے بعد جنوری اور فروری میں 2 ماہ کی تربیت دی گئی اور تقریبا 100 لڑکیوں کو تربیت دی گئی اور دوسرا بیاچ مارچ اور اپریل میں بھی 100 لڑکیوں کو تربیت دی گئی ۔ اس طرح دو بیاچوں میں 200 لڑکیوں کو تربیت دی گئی ۔ اقلیتی بہبود کی جانب سے قائم کردہ ادارہ ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر درخواست گذاری اور دو مرتبہ بھی 100 ، 100 لڑکیوں کو داخلہ دیتے ہوئے دوسری بیاچ میں داخلہ دینے کا تیقن دیا گیا ۔ لیکن اچانک سنٹر بند کئے جانے کے بعد اس بارے میں کوئی پرسان حال نہیں ہے نہ صرف سنٹر کو برخاست کردیا گیا بلکہ تربیتی یافتہ 200 لڑکیوں کو ایک سال سے ابھی تک اسنادات کی تقسیم عمل میں نہیں لائی گئی ۔ ڈی ایم ڈبلیو او سے اس بارے میں دریافت کرنے پر بتایا کہ سرٹیفیکٹ تیار کئے جارہے ہیں ۔ اس کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی ۔ رکن پارلیمنٹ کے کویتا کے ہاتھوں افتتاح عمل میں لانے کی وجہ سے عوام پر امید تھے کہ سنٹر مستقل طور پر چلایا جائے گا ۔ رکن پارلیمنٹ کے اعلان کے مطابق اقدامات کئے جائیں گے کیوں کہ رکن پارلیمنٹ کے کویتا چیف منسٹر کی دختر ہونے کی وجہ ان کے اعلانات پر عمل واری کو یقینی سمجھا جارہا تھا لیکن اچانک 2 بیاچوں کے تربیت کے بعد سنٹر کو بند کردیا گیا ۔ اس بارے میں دریافت کرنا کوئی بھی ذمہ دار افراد مناسب نہیں سمجھا ۔ اسنادات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے پرجاوانی میں درخواست گذاری کے باوجود بھی ابھی تک اسنادات فراہم نہیں کئے ۔ اس بارے میں عہدیداروں کی جانب سے کوئی اطمینان بخش جواب حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے خواتین کی فلاح و بہبودی اور بالخصوص اقلیتی بہبود کے بلند بانگ دعوے کے باوجود بھی نظام آباد مستقر پر اقدامات اس کے برعکس ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT