Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / اقلیتوں کی ترقی کیلئے تلنگانہ ملک بھر میں مثالی ریاست، خود روزگار قرض پر 80 فیصد سبسیڈی

اقلیتوں کی ترقی کیلئے تلنگانہ ملک بھر میں مثالی ریاست، خود روزگار قرض پر 80 فیصد سبسیڈی

صنعتی شعبہ میں اقلیتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی آئی ٹی پارک، اسلامک کنونشن سنٹر کیلئے 40 کروڑ روپئے، حیدرآباد کو عالمی شہر کے خطوط پرترقی

قلعہ گولکنڈہ میں پرچم کشائی کے بعد چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد۔ 15 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے معاملے ریاست تلنگانہ سارے ملک میں ’’مثالی ریاست‘‘ ہے۔ اقلیتوں کیلئے بجٹ میں 2,000 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی۔ 206 اقلیتی ریسیڈنیشل اسکولس قائم کرتے ہوئے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو خود روزگار فراہم کرنے کیلئے 2 تا 10 لاکھ روپئے پر 80% سبسیڈی سے قرض فراہم کیا جارہا ہے۔ صنعتی شعبہ میںاقلیتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی آئی ٹی پارک قائم کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ عالمی نوعیت کا اسلامک سنٹر و کنونشن سنٹر قائم کرنے کیلئے 40 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے کوکا پیٹ میں 10 ایکر اراضی مختص کی گئی۔ غریب عوام کیلئے 2.72 لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات منظور کئے گئے ہیں۔ امن و امان کو قائم و برقرار رکھنے کیلئے محکمہ پولیس کو مستحکم کیا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد کو گلوبل سٹی کے طرز پر ترقی دینے کیلئے 35 ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے ترقیاتی و تعمیری کام کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد کے اطراف سیٹلائیٹ ٹاؤن شپ تعمیر کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ مرکزی حکومت نے 330 کیلومیٹر ریجنل رنگ روڈ تعمیر کرنے کی منظوری بھی دے دی۔ 72 ویں یوم آزادی تقاریب کے موقع پر تاریخی قلعہ گولکنڈہ میں قومی پرچم کشائی انجام دینے کے بعد ریاست کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کی ترقی سے وزیراعظم نریندر مودی بھی متاثر ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں تلنگانہ کی ترقی کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت کی ستائش کی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ انہیں تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر پانچویں مرتبہ قومی پرچم لہراتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے۔ مختصر عرصہ میں تلنگانہ نے تمام شعبوں میں بڑی تیزی سے ترقی کی ہے اور تلنگانہ سارے ملک کیلئے مثالی ریاست میں تبدیل ہوگیا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ کے جن شعبوں کو نظرانداز کردیا ہے، ان پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ غریب عوام کو ترقی دینے کیلئے خصوصی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ فلاحی اسکیمس، پچھڑے طبقات کیلئے سنجیونی ثابت ہورہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان چار سال کے دوران انہیں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی انہوں نے پرواہ نہیں کی اور نہ ہی پیچھے مڑ کر دیکھنا مناسب سمجھا۔ سارا وقت ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر دیتے ہوئے قوم کی تعمیر میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو ترقی دینے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے انقلابی فیصلے کئے گئے 17,000 کروڑ روپئے زرعی قرض معاف کرتے ہوئے 35.29 لاکھ کسانوں کو راحت فراہم کی گئی ۔ متحدہ آندھرا میں خودکشی کرنے والے کسانوں کو صرف دیڑھ لاکھ روپئے ایکس گریشیا فراہم کیا جاتا تھا جس کی رقم برھاکر 6 لاکھ روپئے کردی گئی۔ نقلی بیج فروخت کرنے والے 135 ڈیلرس کے لائسنس منسوخ کردیئے، ان کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگا دیا گیا۔ ایس ٹی طبقات کی برقی بقایاجات معاف کردیئے گئے۔ 50 یونٹ سے کم برقی استعمال کرنے والے ایس سی، ایس ٹی طبقات کے برقی بلز حکومت ادا کررہی ہے۔ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کیلئے حکومت بڑے پیمانے پر اقدامات کررہی ہے۔ بجٹ میں 2,000 کروڑ روپئے کی گئی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے کے بعد اقلیتوں کیلئے 206 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرتے ہوئے طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ مفت طعام و قیام کی تمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ تلنگانہ کے 5,000 ائمہ و مؤذنین کو ماہانہ 1500 روپئے اعزازیہ دیا جارہا ہے۔ رمضان اور کرسمس کے موقع پر 4 لاکھ اقلیتوں میں حکومت کی جانب سے ملبوسات تقسیم کئے جارہے ہیں۔ تمام مساجد میں سرکاری افطار کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں میں کرسمس ڈنر کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد میں عالمی نوعیت کا اسلامک سنٹر و کنونشن ہال تعمیر کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے، اس کے لئے 40 کروڑ روپئے منظور کرتے ہوئے کوکا پیٹ میں 10 ایکر اراضی بھی مختص کردی گئی ہے جس میں مسلم پروگرامس کا اہتمام کرنے کیلئے خصوصی ہال کارآمد ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT