Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کی معاشی ترقی کیلئے کئی اسکیمات، اردو ذریعہ تعلیم کی سہولت

اقلیتوں کی معاشی ترقی کیلئے کئی اسکیمات، اردو ذریعہ تعلیم کی سہولت

ترقی و فلاحی اقدامات میں تلنگانہ ملک میں رول ماڈل، اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر نرسمہن کا خطاب‘سنہرے تلنگانہ کی سمت پیشرفت
٭ ایس سی، ایس ٹی بی سی اور اقلیتیوں کیلئے 517 نئے اقامتی اسکولس
٭ ریاست کی شرح ترقی 8.6 فیصد ۔ قومی اوسط سے بھی زیادہ
٭ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے معیاری برقی کی سربراہی ‘ ملک بھر میں مثال
حیدرآباد 12مارچ (سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے کہا کہ تلنگانہ جو ملک کی سب سے کم عمر ریاست ہے، ملک بھر کیلئے ترقی اور فلاحی اقدامات میں رول ماڈل بن چکی ہے۔ حکومت نے کئی اہم شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے تیزی سے گامزن ہے۔ تمام طبقات کی یکساں ترقی کے ساتھ کئی بڑے اور متوسط آبپاشی پراجیکٹس کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ کالیشورم پراجیکٹ کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مشن کاکتیہ اور مشن بھگیرتا کے ذریعہ زراعت اور عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ گورنر نرسمہن تلنگانہ اسمبلی و کونسل کے بجٹ اجلاس کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ نرسمہن نے حکومت کے مختلف کارناموں کا ذکر کیا اور درج فہرست اقوام و قبائیلی پسماندہ طبقات اور اقلیتوںکی ہمہ جہتی ترقی کیلئے اقدامات کی تفصیل بیان کی۔ گورنر نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں اقامتی اسکولوں کا قیام، پری اینڈ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ، فیس ری ایمبرسمنٹ برائے پیشہ ورانہ کورسس، اوورسیز اسکالرشپ، اسٹیڈی سرکلس کا قیام، شادی مبارک، ائمہ اور موذنین کیلئے اعزازیہ، تلنگانہ اسلامک کلچرل کنونشن سنٹر، کرسچن بھون اور سکھ بھون کی منظوری شامل ہیں۔ گورنر نے اردو زبان کی ترقی کا حوالہ دیا اور کہا کہ ریاست میں اردو دوسری سرکاری زبان کا درجہ رکھتی ہے لہٰذا طلبہ کو فرسٹ لینگویج کی حیثیت سے اردو میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ گورنر نے کہا کہ حکومت نے ایس سی ایس ٹی اور بی سی طبقات کی بھلائی کیلئے کئی منفرد اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ تعلیم کے شعبہ کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ تعلیم حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور ریاست میں تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت نے ایس سی، ایس ٹی بی سی اور اقلیتیوں کیلئے 517 نئے اقامتی اسکولس قائم کیے ہیں جن کا مقصد معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ حکومت نے تمام ویلفیر ہاسٹلس اور اقامتی اسکولوں کیلئے ڈائٹ چارجس میں اضافہ کیا ہے۔ گورنر نے معاشی شعبہ میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کی جی ڈی پی شرح 4 فیصد تھی جو قومی شرح ترقی سے 5.9 فیصد کم تھی۔ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اور گزشتہ تین برسوں میں سالانہ ترقی کی شرح 8.6 فیصد پہنچ چکی ہے جو قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ نرسمہن نے زرعی شعبہ کیلئے حکومت کی رعایتوں اور اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت نے 35 لاکھ 3 ہزار کسانوں کا ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف کردیا ہے۔ حکومت نے یکم جنوری سے 24 گھنٹے معیاری مفت برقی سربراہی کا آغاز کیا ہے جو ریکارڈ ہے۔ 23 لاکھ زرعی پمپ سٹس اور لفٹ آبپاشی اسکیمات کو فائدہ پہنچا ہے۔ حکومت نے آبپاشی شعبہ میں اہم پیشرفت کے ذریعہ 23 بڑے اور 13 اوسط آبپاشی پراجیکٹس کے کاموں کا آغاز کیا ہے۔ پراجیکٹس کی جلد تکمیل کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ حکومت ایک کروڑ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا نشانہ رکھتی ہے۔ اہم آبپاشی پراجیکٹس میں پالمور لفٹ اریگیشن، کالیشورم اور سیتاراما لفٹ اریگیشن شامل  ہیں۔ ای ایس ایل نرسمہن نے مختلف پراجیکٹس کے کاموں کے معائنہ کا ذکر کیا اور کہا کہ شخصی طور پر چند پراجیکٹس کے دورے کے موقع پر کام کی تیز رفتاری اور مستعدی سے متاثر ہوئے ہیں۔ برقی صورتحال میں بہتری اور ریکارڈ مدت میں برقی بحران پر قابو پانے حکومت کی ستائش کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ صنعتی شعبہ کیلئے دو دن کی تعطیل کی صورتحال ختم ہوچکی ہے۔ تمام زمرے کے صارفین کو برقی سربراہی کے معیار میں بہتری ہوئی ہے۔ برقی شعبہ میں ریاست کو خود مکتفی بنانے 5,344 میگاواٹ برقی کی تیاری کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ مستقبل قریب میں تلنگانہ فاضل برقی پیداوار کی ریاست بن جائیگی کیونکہ مزید 12931 میگاواٹ صلاحیت کے پراجیکٹس مختلف مراحل میں ہیں۔ صنعتوں کے قیام کیلئے ٹی ایس آئی پاس کے ذریعہ کسی رکاوٹ کے بغیر سنگل ونڈو کے تحت 15 دنوں میں اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں۔ اس طرح صنعتوں کی اجازت کے نظم کو مکمل شفاف، آسان اور کرپشن سے پاک بنایا گیا ہے۔ تلنگانہ ملک میں سرمایہ کاری کیلئے پسندیدہ ریاست بن کر ابھری ہے۔ گورنر نے آئی ٹی شعبہ میں پیشرفت کا حوالہ دیا اور کہا کہ شہر حیدرآباد کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کیلئے عالمی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ شہر میں 1500 آئی ٹی / آئی ٹی ای ایس ہیں جن سے 4 لاکھ 3 ہزار پروفیشنلس کو راست روزگار حاصل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 7 لاکھ سے زائد افراد کو بالواسطہ روزگار میں مدد ملی ہے۔ سافٹ ویر اور آئی ٹی برآمدات سال 2016-17ء میں 85470 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے آئی ٹی شعبہ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے  10 آئی ٹی پالیسیوں کا اعلان کیا ہے۔ حیدرآباد کو بہترین انٹرنیشنل اسٹارٹ اپ مرکز کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ مادھاپور اور گچی بائولی میں نیا آئی ٹی کاریڈور قائم کرنے کے علاوہ بدویل اور اطراف کے مواضعات میں آئی ٹی کلسٹر قائم کیا جارہا ہے۔ حکومت نے ورنگل، کریم نگر، کھمم اور نظام آباد میں آئی ٹی انکیوبیشن سنٹرس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشن بھگیرتا کے تحت 5,500 مواضعات اور 13 مجالس مقامی کو سربراہی آب کا آغاز ہوچکا ہے۔ ٹاملناڈو، اوڈیشہ، مہاراشٹرا، بہار، کرناٹک اور مغربی بنگال اس اسکیم کے آغاز میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گورنر نے صحت کے شعبہ میں حاملہ خواتین کو دیئے جانے والے کے سی آر کٹس کا حوالہ دیا جس کے تحت لڑکے کی پیدائش پر 12 ہزار روپئے اور لڑکی کی پیدائش پر 13 ہزار روپئے مالیتی کٹ حوالہ کیا جاتا ہے جو سرکاری دواخانوں میں ڈیلیوری کی صورت میں ملتا ہے۔ گورنر نے بتایا کہ آسرا وظائف کے تحت 41 لاکھ 78 ہزار افراد کو پنشن دیا جارہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایوان کے مباحث جمہوری نظام کے استحکام اور سنہرے تلنگانہ کے مقصد کی تکمیل میں مدد گار ثابت ہوں گے۔
TOPPOPULARRECENT