Friday , June 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کا تیقن

اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کا تیقن

ریاست کے مفادات میں بی جے پی سے مفاہمت ، کڑپہ میں جلسہ سے چندرا بابو نائیڈو کا خطاب

ریاست کے مفادات میں بی جے پی سے مفاہمت ، کڑپہ میں جلسہ سے چندرا بابو نائیڈو کا خطاب

کڑپہ /8 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو نے کڑپہ میونسپل اسٹیڈیم میں منعقدہ پرجا گرجنا جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تلگودیشم کا بی جے پی سے اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے اور بی جے پی سے اتحاد ریاست کے مفادات کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ یہ مفاہمت تاریخی ہے ۔ ریاست آندھراپردیش کی تعمیر جدید کیلئے یہ اتحاد کیا گیا ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ریاست کے اقلیتوں کو بی جے پی سے مفاہمت پر خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اقلیتوں کا مکمل تحفظ کیا جائے گا ۔ اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے ۔ ضرورت پڑنے پر اقلیتوں کے تحفظات میں مزید اضافہ کیا جائے گا ۔ اقلیتوں کی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا کوئی تعصب نہیں برتا جائے گا ۔ نئی ریاست آندھراپردیش کی ترقی کیلئے تمام مذاہب ، فرقوں اور ذات پات سے اٹھ کر متحدہ طور سے کام کرنا ہوگا جب یہ نئی ریاست کو ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست آندھراپردیش میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ قدرتی وسائل بھرے پڑے ہیں جنہیں جتنی بروئے کار لاکر ریاست کو ترقی دی جائے گی ۔ ریاست میں ہزاروں کیلومیٹر طویل ساحلی علاقے ہیں 7 پورٹس ہیں 7 ایرپورٹس ہیں ۔ ریاست کی تیز رفتار ترقی کیلئے مجھے ایک مرتبہ چیف منسٹر بنائیں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انہیں پھر ایک مرتبہ چیف منسٹر بناکر دیکھیں، ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کو تیز رفتاری سے مکمل کریں گے ۔ برسر اقتدار آنے پر ریاست کے ہر ضلع کو حیدرآباد میں تبدیل کردیں گے ۔ کڑپہ ضلع میں آئی ٹی ہب میں تبدیل کرنے کا تیقن دیا ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے ریاست کے دو ٹکڑے کرنے کا کانگریس پارٹی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کی وجہ سے ہی آج ریاست کے دو ٹکڑے ہوئے ہیں ۔ کانگریس پارٹی کا ریاست آندھراپردیش سے خاتمہ ہوچکا ہے ۔ تلنگانہ میں بھی اس کے بغل بچہ ٹی آر ایس نے دھوکہ دے دیا ۔ اس طریقے سے کانگریس پارٹی کو سبق سکھایا گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کو ریاست کے ٹکڑے کرنے کی سزا مل چکی ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس کے وجود کو ناپاک وجود قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا وجود ہی بدعنوان سے عبارت ہے ۔ بدعنوانی کا ذکر آتے ہی وائی ایس آر کانگریس پارٹی یاد آجاتا ہے ۔

عظیم تاریخ کے حامل کڑپہ ضلع میں ایک غلط انسان کی پیدائش ہوئی ہے ۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزاروں کروڑ کی املاک کو ضبط کیا گیاہے ۔ جس سے بدعنوانی کی انتہاء کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ 2011 کے ضمنی انتخابات میں جگن موہن ریڈی نے اس انتخابات کو کڑپہ کے وقار اور دہلی کے درمیان مقابلہ قرار دے کر کڑپہ کے عوام کو بیوقوف بنایا تھا اور اکثریت سے کامیاب حاصل کی ۔ کڑپہ کے عوام نے اکثریت سے جگن موہن ریڈی کو کامیابی دلائی ،کامیابی کے بعد جگن موہن ریڈی نے جیل سے چھوٹنے کیلئے ضمانت حاصل کرنے کیلئے سونیا گاندھی کے پاس کڑپہ کے وقار کا سودا کرلیا ۔ باہر آکر ریاست کی علحدگی کیلئے اپنا حق ادا کردیا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے خود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سچی اور پاک صاف زندگی گذاری ہے ۔ ایسے بدعنوان شخص و پارٹی سے مقابلہ کرتے ہوئے انہیں شرم محسوس ہو رہی ہے ۔ ریاست میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی شکست یقینی ہے ۔ عوام تلگودیشم پارٹی کو برسر اقتدار لانے کوشاں ہیں ۔ آج ملک بھر میں این ڈی اے کی اور ریاست آندھراپردیش میں تلگودیشم پارٹی کی لہر چل رہی ہے ۔ 2 جون کو نئی ریاست کا باقاعدہ قیام عمل میں آجائے گا ۔ اگر عوام ایک مرتبہ چیف منسٹر بننے کا موقع دیں تو آئندہ 5 برسوں میں نئی ریاست آندھراپردیش کو مثالی ریاست بنانے کا عوام کو یقین دیتا ہوں ۔ ریاست کے کسانوں کے قرضے معاف کردئے جائیں گے ۔ کسانوں کیلئے ہر ضلع میں میگاواٹ پارک تشکیل دئے جائیں گے ۔ جہاں پر کسانوں کی فصلوں کیلئے خاطر خواہ قیمت دی جائے گی ۔ ریاست میں ڈوکرا خواتین کے گروپ میں نے ہی شروع کئے تھے آج ڈوکرا خواتین مالی پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ اس لئے ڈوکٹرا گروپس کے بقایہ جات معاف کروائے جائیں گے اور نئے سرے سے سودی لونس دئے جائیں گے ۔ معذورین کو ہر ماہ 1500 روپئے دئے جائیں گے ۔ ہر حلقہ میں معمر افراد کیلئے بیت المعمرین قائم کئے جائیں گے ۔ پسماندہ طبقات کیلئے 10 ہزار کروڑ سے ترقی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT