Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کے مسائل پر بہت جلد اعلی سطحی اجلاس کی طلبی

اقلیتوں کے مسائل پر بہت جلد اعلی سطحی اجلاس کی طلبی

حیدرآباد 14 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راو نے اردو زبان کی ترقی و ترویج اور اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا تیقن دیا ہے۔ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے اقلیتوں کے مسائل پر بہت جلد اعلی سطحی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اردو میڈیم طلباء کیلئے تلگو مضمون میںکامیابی کے نشانات کو

حیدرآباد 14 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راو نے اردو زبان کی ترقی و ترویج اور اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا تیقن دیا ہے۔ اسمبلی میں بجٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے اقلیتوں کے مسائل پر بہت جلد اعلی سطحی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اردو میڈیم طلباء کیلئے تلگو مضمون میںکامیابی کے نشانات کو 35سے گھٹا کر دوبارہ 20 کرنے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کی سنجیدگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت انتخابی وعدوں کی تکمیل کے عہد کی پابند ہے۔ اردو کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ اردو زبان پر ہمیں فخر ہے۔ اردو حیدرآباد میں پیدا ہوئی اور دہلی میں پرورش پائی جبکہ وہ لکھنو میں اسے فروغ حاصل ہوا ۔ چیف منسٹر نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کا یقین دلایا اور کہا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ذریعہ اس کی آمدنی مسلمانوں کی ترقی پر خرچ کرے گی۔ چیف منسٹر نے مکہ مکرمہ میں واقع حیدرآبادی رباط کے تنازعہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں ضرورت پڑنے پر سعودی حکام سے ربط قائم کرنے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ رباط میں تلنگانہ کے عازمین حج کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نظام حیدرآباد نے یہ وقف کیا ہے اور تلنگانہ کے عازمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے قیام کیلئے اس وقت کے حکمران نے عمارتیں وقف کیں ۔ دنیا میں کسی بھی ملک کی جانب سے اس طرح کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے ارکان کے ضمنی سوالات کے جواب میں کہا کہ اردو میڈیم طلباء کیلئے تلگومضمون میں کامیابی کیلئے نشانات کی جو حد مقرر کی گئی ہے اس میں کمی کرتے ہوئے سابقہ نشانات کو بحال کیا جائے گا ۔ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر قابو پانے کیلئے انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت اسمبلی میں بل پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم اس کیلئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ عجلت میں اس طرح کا بل پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ حیدرآباد میں مختلف علاقوں اور تہذیبوں سے وابستہ افراد کے قیام کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان کا کوئی دوسرا شہر حیدرآباد کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ حیدرآباد نہ صرف ایک سیکولر شہر ہے بلکہ اس نے دیگر علاقوں سے آنے والے خاندانوں کو بھی اپنا لیا ہے۔ مختلف علاقوں زبانوں تہذیبوں سے وابستہ افراد حیدرآباد میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت یہاں بسنے والے تمام خاندانوں کے ساتھ مساوی انصاف کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گجراتی گلی، پارسی گٹہ اور سندھی کالونی جیسے علاقہ خود حیدرآباد کی ہمہ جہتی تہذیب کی مثال ہیں ۔ چیف منسٹر نے اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپس کی فراہمی کیلئے نہ صرف مناسب فنڈس جاری کئے جائیں گے بلکہ کوئی مستحق طالبعلم اسکالر شپس سے محروم نہیں رہے گا۔ چیف منسٹر نے پرانے شہر میں نوٹری پر موجود مکانات کو رجسٹری کے طور پر تسلیم کرنے کے سلسلہ میں چیف کمشنر لینڈ اڈمنسٹریشن کی نگرانی میں کمیٹی کی تشکیل کا تیقن دیا اور کہا کہ حکومت رجسٹریشن فیس کی معافی پر غور کرے گی۔ کے سی آر نے ریاست کے معاشی موقف پر وائیٹ پیپر کی اجرائی کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت مالی موقف کے بارے میں حقائق عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ چیف منسٹر نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ کا ہر شہری 29 ہزار روپئے کا قرض دار ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت طلباء کو فیس باز ادائیگی اسکیم کے خلاف نہیں تاہم وہ بوگس تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کے مخالف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ حکومت نے فیس باز ادائیگی کے تحت 1700 کروڑ روپئے جاری کئے تھے جبکہ ان کی حکومت نے 2700 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ اقلیتی غریب لڑکیوں کی شادی پر امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم اور ایس سی ایس ٹی لڑکیوں کیلئے کلیان لکشمی اسکیم پر کامیابی کے ساتھ عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ کیلئے اراضی کے منظوری کے سلسلہ میں جو الزامات عائد کئے جارہے ہیں ان کے تدارک کیلئے حکومت پراجکٹ کی تمام تفصیلات ارکان کے روبرو پیش کرنے تیار ہے۔

TOPPOPULARRECENT