Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتوں کے موجودہ ہاسٹلس کی صورتحال ابتر ، نئے اقامتی اسکولس کیلئے حکومت کے بلند بانگ دعوے

اقلیتوں کے موجودہ ہاسٹلس کی صورتحال ابتر ، نئے اقامتی اسکولس کیلئے حکومت کے بلند بانگ دعوے

اعظم پورہ کے پوسٹ میٹرک بوائز ہاسٹل کی حالت زار ، ہاسٹل کے سینکڑوں طلبہ کی دفتر سیاست میں شکایت
حیدرآباد۔ 9۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ایک طرف اقلیتی طلبہ و طالبات کیلئے جون سے 70 اقامتی اسکولس کے قیام کا اعلان کیا ہے لیکن موجودہ اقلیتی ہاسٹلس کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ حکومت کو نئے اقامتی اسکولس کے قیام سے قبل حیدرآباد میں واقع پوسٹ میٹرک بوائز ہاسٹل کی حالت زار پر توجہ دینی چاہئے ۔ حکومت نے اقلیتی طلبہ کیلئے پوسٹ میٹرک ہاسٹلس قائم کئے لیکن وہاں بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب طلبہ کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ اضلاع کے ہاسٹلس کی کیا صورتحال ہوگی، اس کا اندازہ اعظم پورہ میں واقع پوسٹ میٹرک بوائز ہاسٹل کی حالت سے لگایا جاسکتا ہے ۔ ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے ایک وفد نے آج دفتر سیاست پہنچ کر اپنی بپتا سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹل میں بنیادی سہولتوں کے بارے میں اقلیتی بہبود کے ہر عہدیدار سے بارہا نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن کسی نے بھی ان کے مسائل کی یکسوئی پر توجہ نہیں کی ہے۔ طلبہ نے بتایا کہ اعظم پورہ میں واقع بوائز ہاسٹل میں طلبہ کی تعداد 50 تھی جو اب گھٹ کر 35 ہوچکی ہے ۔ گریجویشن اور مختلف پیشہ ورانہ کورسس میں زیر تعلیم طلبہ اس ہاسٹل میں مقیم ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کو ان کے مسائل کی کوئی فکر نہیں ۔ طلبہ نے شکایت کی کہ ہاسٹل میں پانی کی سربراہی کا کوئی نظم نہیں ہے ۔ پینے کے پانی اور استعمال کے پانی کی سربراہی طویل عرصہ سے بند ہے۔ نہ صرف عہدیدار بلکہ عمارت کے مالک بھی اس مسئلہ پر خاموش ہیں ۔ گزشتہ 8 ماہ سے طلبہ پانی کی عدم سربراہی کے سبب حوائج ضروریہ کیلئے قریب میں واقع سلبھ جانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت میں باتھ روم بھی موجود نہیں اور کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہیں ۔ متعلقہ وارڈن سے جب کبھی شکایت کی گئی ، انہوں نے اعلیٰ عہدیداروں سے رجوع کرنے کا تیقن دیا ہے۔طلبہ نے شکایت کی کہ عمارت میں صحت و صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ٹائیلٹ ، باتھ روم کی عدم صفائی اور ہاسٹل کی عمارت میں جگہ جگہ گندگی نے ماحول کو ناقابل استعمال بنادیا ہے۔ ان حالات میں طلبہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ گزشتہ ایک سال سے ہونے ڈائیٹ چارجس ادا نہیں کئے گئے جس سے غریب طلبہ کو اپنی ضروریات کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ طلبہ نے اعلیٰ عہدیداروں سے درخواست کی کہ وہ اس ہاسٹل کا دورہ کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT