Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم تعیناتی سے کارکردگی متاثر

اقلیتی اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں کی عدم تعیناتی سے کارکردگی متاثر

اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا عہدہ خالی، انتظامات کی دیکھ بھال متاثر

اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا عہدہ خالی، انتظامات کی دیکھ بھال متاثر
حیدرآباد۔/25جولائی، ( سیاست نیوز) اقلیتی اداروں میں اعلیٰ عہدیداروں کے عدم تقرر کا اثر راست طور پر اداروں کی کارکردگی پر دیکھا جارہا ہے۔ گذشتہ دیڑھ ماہ سے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کا عہدہ خالی ہے اور موجودہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے بھی اپنی مرضی کے مطابق محکمہ مال میں اپنا تبادلہ کروالیا۔ اس طرح وقف بورڈ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس صورتحال کا اثر حج ہاوز کے انتظامات اور اس کی دیکھ بھال پر پڑ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کی عدم موجودگی کے باعث حج ہاوز کی چاروں لفٹس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ برقی سربراہی کے منقطع ہوتے ہی تمام چاروں لفٹس بند ہورہی ہیں حالانکہ لفٹس کیلئے علحدہ جنریٹر کا انتظام کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی وقف بورڈ میں عدم موجودگی کے باعث جنریٹرس کیلئے ڈیزل کی قلت پیدا ہوچکی ہے اور ڈیزل نہ ہونے کے سبب برقی سربراہی کے منقطع ہونے کے بعد لفٹس بھی بند پڑے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیزل کی خریدی کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو رقم کی منظوری کا اختیار ہے کوئی اور عہدیدار یہ اختیار نہیں رکھتا۔ اس صورتحال کے نتیجہ میں عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ عوام ہی نہیں بلکہ دیگر عہدیداروں اور ملازمین کو پانچ تا سات فلور تک سیڑھیوں کے ذریعہ جانا پڑ رہا ہے۔ ضعیف افراد اور خواتین کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ لفٹس کے مینٹننس کے علاوہ حج ہاوز کی نگہداشت کے کام بھی متاثر ہوئے ہیں۔ عوام نے شکایت کی کہ دن میں کئی گھنٹوں تک لفٹس بند رکھی جارہی ہیں اور انہیں اوپری منزلوں تک جانے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ کئی ضعیف افراد تو برقی سربراہی کی بحالی تک انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ کے عہدہ پر متبادل انتظام تک موجودہ سی ای او کو ریلیو کرنے سے انکارکردیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے گذشتہ ہفتہ ان کا تبادلہ آر ڈی او گدوال کی حیثیت سے کیا لیکن وقف بورڈ نے متبادل انتظام نہ ہونے کے سبب محکمہ انہیں ریلیو کرنے تیار نہیں۔ اگر مسٹر ایم اے حمید کو ریلیو کیا جائے تو بیک وقت دو اداروں کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ وہ ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی کے علاوہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ جیسے اہم عہدوں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ وقف بورڈ میں پہلے ہی اسپیشل آفیسر موجود نہیں اور ساری ذمہ داری سی ای او پر عائد ہوتی ہے۔ دوسری طرف حج 2014کیلئے حج کیمپ کا آئندہ ماہ آغاز ہوگا۔ ایسے میں ایکزیکیٹو آفیسر کی عدم موجودگی سے مشکلات کا اندیشہ ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم نے ان دونوں عہدوں پر متبادل انتظامات تک مسٹر ایم اے حمید کو ریلیو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دونوں اداروں کی کارکردگی کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT