Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں میں بے قاعدگیوں کی حکومت سے شکایت

اقلیتی اداروں میں بے قاعدگیوں کی حکومت سے شکایت

چیف منسٹر کے سی آر اور چیف سکریٹری راجیو شرما کو یادداشتیں
حیدرآباد۔/6فبروری، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں جاری بے قاعدگیوں اور اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی میں قواعد کی خلاف ورزی کے خلاف رضاکارانہ تنظیموں نے چیف منسٹر سے نمائندگی کی ہے۔ سرکاری اسکیمات پر موثر عمل آوری میں اہم رول ادا کرنے والی کئی رضاکارانہ تنظیموں نے محکمہ میں جاری بدعنوانیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کی ٹھان لی ہے اور اس سلسلہ میں مختلف شکایات کے ساتھ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما کو یادداشت روانہ کی گئی۔ ہیلپ انڈیا، میناریٹیز رائیٹس پروٹیکشن کمیٹی اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں کی جانب سے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا گیا جس میں اقلیتی بہبود میں جاری من مانی اور بدعنوانیوں کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ تنظیموں نے شکایت کی ہے کہ اقلیتی بہبود پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور سکریٹری کی سرپرستی میں بعض ادارے نہ صرف سرکاری بجٹ کا بیجا استعمال کررہے ہیں بلکہ قواعدکی صریح خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو بھی ان اداروں پر کارکرد عہدیداروں کے تقرر میں کوئی دلچسپی نہیں جس کے باعث سرکاری اسکیمات میں بے قاعدگیاں اور دھاندلیاں عروج پر ہیں۔ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود پر تجربہ کار عہدیداروں کے بجائے محکمہ جنگلات سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو مامور کردیا جنہیں نظم و نسق کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ شاید حکومت نے اقلیتی بہبود کو محکمہ جنگلات سمجھ لیا ہے جس کے نتیجہ میں وہاں سے عہدیداروں کو ڈیپوٹیشن پر حاصل کیا جارہا ہے۔ نظم و نسق کا تجربہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کو ہوتا ہے اور ان کی تعیناتی سے کسی بھی ادارہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے تاہم گزشتہ چند برسوں میں حکومتوں نے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو اقلیتی بہبود میں تعینات کیا جس سے وہ اداروں پر کنٹرول میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فی الوقت اقلیتی بہبود کے دو اہم عہدوں پر محکمہ جنگلات کے عہدیدار مامور ہیں۔ رضاکارانہ تنظیموں نے حکومت سے مانگ کی کہ محکمہ جنگلات کے بجائے انڈین اڈمنسٹریٹو سرویس اور انڈین پولیس سرویس سے وابستہ عہدیداروں کو محکمہ اقلیتی بہبود میں تعینات کیا جائے۔ تنظیموں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن میں جاری جنگل راج کی کئی مثالیں پیش کیں جس کے تحت قواعد کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں اسکیمات پر عمل آوری میں کرپشن کی شکایت اس قدر عام ہوچکی ہے لیکن متعلقہ عہدیدار صورتحال بہتر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ بدعنوان عہدیداروں کی اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سرپرستی کی جارہی ہے۔ رضاکارانہ تنظیموں کے مکتوب میں شکایت کی گئی کہ حالیہ عرصہ میں ریٹائرڈ ایک عہدیدار کو حکومت کی منظوری کے بغیر ہی دوبارہ اسی عہدہ پر مامور کردیا گیا حالانکہ حکومت نے ریٹائرڈ افراد کے دوبارہ تقرر کے خلاف واضح احکامات جاری کئے ہیں۔ مذکورہ ریٹائرڈ عہدیدار کی درپردہ سرگرمیاں محکمہ کے ہر ملازم پر عیاں ہے اور وہ اعلیٰ عہدیداروں کی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل میں مہارت رکھتا ہے اسی لئے عہدیداروں کو حکومت کے احکامات کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مذکورہ عہدیدار کی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے اسے پانچ سال قبل ہی ریٹائرڈ ہوجانا چاہیئے تھا لیکن وہ اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی اور عدالت کے حکم التواء کی آڑ میں ریٹائرمنٹ کے باوجود کارپوریشن پر تمام سرکاری مراعات کے ساتھ راج کررہا ہے۔ سی بی سی آئی ڈی نے اس معاملہ کی جانچ کی تھی جس میں اسکول اور یونیورسٹی کی جانب سے جو ریکارڈ داخل کیا گیا اس کے اعتبار سے تاریخ پیدائش میں تبدیلی کرتے ہوئے مزید پانچ سال تک اس عہدیدار نے کارپوریشن پر راج کیا۔ عدالت میں مقدمہ کے باوجود اس طرح کی شخصیت کی اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سرپرستی سارے محکمہ کے ملازمین میں موضوع بحث بن چکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT