Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں پر چیف منسٹر کے سی آر کی کڑی نظر

اقلیتی اداروں پر چیف منسٹر کے سی آر کی کڑی نظر

کرپشن کے الزامات کی ویجلنس تحقیقات،اسمبلی اجلاس کے بعد رپورٹ کی پیشکشی

حیدرآباد ۔ 13 ۔مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی اداروںکی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے ہوئے کرپشن اور بے قاعدگیوں کی ویجلنس تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ویجلنس ڈپارٹمنٹ اقلیتی اداروں کی اسکیمات میں بے قاعدگیوں کے علاوہ حال ہی میں اقامتی اسکولوں میں تقررات کے لئے بھاری رقومات کی وصولی اور کرپشن کی جانچ کا آغاز کرچکا ہے۔ ویجلنس کی ٹیمیں مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے جانچ کر رہی ہے اور انہوں نے اقلیتی اداروں کے ہیڈکوارٹرس واقع حیدرآباد میں اپنی جانچ مکمل کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اجلاس کے فوری بعد چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کردی جائے گی ۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں کی ابتدائی رپورٹ کے بعد ویجلنس تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ اے کے خاں نے محکمہ جاتی تحقیقاتی رپورٹ میں اقلیتی اداروں خاص طور پر اقلیتی فینانس کارپوریشن میں جاری بے قاعدگیوں کی تفصیلات پیش کی۔ انہوں نے اقامتی اسکولوں میں ملازمین کے تقررات کے وقت بھاری رقومات کی وصولی کے سلسلہ میں کی گئی جانچ کی تفصیلات بھی چیف منسٹر کے حوالے کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ تقررات کیلئے امیدواروں سے ایک تا دو لاکھ روپئے حاصل کئے گئے تھے اور اس معاملت میں درمیانی افراد کے علاوہ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین بھی ملوث ہیں۔ سرکاری عہدوں پر فائز اقلیتی قائدین کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اور حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور کو وقتاً فوقتاً رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اقلیتی اداروںکی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور انہوں نے دیگر اقلیتی اداروں پر تقررات کا عمل محض اس لئے روک دیا تاکہ ویجلنس تحقیقات کی رپورٹ موصول ہوجائے ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ محکمہ جاتی تحقیقات میں کئی بے قاعدگیوں اور کرپشن کے واقعات کا پتہ چلا ہے جن میں بعض صدورنشین کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت ملے ہیں۔ ویجلنس رپورٹ میں جو بھی قائدین قصور وار پائے جائیں ، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اقامتی اسکولوں میں تقررات کے وقت مختلف اضلاع سے امیدواروں نے حیدرآباد پہنچ کر اے کے خاں اور دیگر عہدیداروں سے شکایت کی تھی کہ بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے دیگر امیدواروں کے تقررات کئے گئے جبکہ اہلیت کے اعتبار سے وہ تقرر کردہ افراد سے آگے ہیں۔ ان الزامات کی جانچ کیلئے عہدیداروں کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے ایسے امیدواروں کے بیانات قلمبند کئے جن سے رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔ اقلیتی اداروں میں وقف بورڈ اور فینانس کارپوریشن سے چیف منسٹر سخت ناراض بتائے گئے ہیں جو اپنے قیام کے مقاصد کی تکمیل میں ناکام ہوچکے ہیں۔ وقف بورڈ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں جبکہ فینانس کارپوریشن اقلیتی امیدواروں کی خود روزگار اسکیمات پر عمل آوری میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ چیف منسٹر کو پیش کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کرپشن سے متعلق سرگرمیوں پر سخت ناراض ہیں اور جس طرح سابق میں ڈپٹی چیف منسٹر کو عہدہ سے برطرف کیا گیا ، ہوسکتا ہے کہ الزامات ثابت ہونے پرسرکاری عہدوں پر فائز افراد کو گھر بھیج دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT