Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی اسکیمات عملاً ٹھپ

اقلیتی اداروں کی اسکیمات عملاً ٹھپ

بجٹ کی اجرائی انتہائی مایوس کن ، حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت
حیدرآباد۔ 13۔ جون ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کو پہلے سہ ماہی کے تحت بجٹ کی اجرائی کی رفتار انتہائی مایوس کن ہے جس کے نتیجہ میں اقلیتی اداروں کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کیلئے الاٹ کردہ 1204 کروڑ روپئے کے منجملہ ابھی تک صرف 479 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ ان میں سے 300 کروڑ روپئے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے بقایہ جات سے متعلق ہیں۔ یہ رقم 2013-14 ء اور 2014-15 ء کے اسکالرشپ بقایہ جات اور فیس باز ادائیگی کیلئے جاری کی جائے گی۔ دیگر اسکیمات اور اداروں کیلئے صرف 179 کروڑ روپئے ہی جاری کئے گئے جن میں کئی اہم اسکیمات کا بجٹ شامل نہیں ہے ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کی اسکیمات کیلئے پہلے سہ ماہی کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن بجٹ کی اجرائی سے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حکومت نے رمضان المبارک میں افطار پیکیج کیلئے بجٹ جاری نہیں کیا جو کہ 15 کروڑ ہے۔ اس پیکیج کے تحت چیف منسٹر کی دعوت افطار کے دن ریاست بھر کی 200 مساجد میں دعوت افظار اور ہر مسجد میں ایک ہزار افراد کیلئے طعام کا انتظام کیا جائے گا ۔اس کے علاوہ 2 لاکھ خاندان میں کپڑوں کی تقسیم کا منصوبہ ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی۔ انہوں نے محکمہ فینانس کے عہدیداروں سے ربط قائم کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی کہ بجٹ کی اجرائی تیزی سے عمل میں لائی جائے تاکہ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر موثر عمل آوری ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT