Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل میں تیزی ، نامزد عہدوں کی تعداد کو قطعیت

اقلیتی اداروں کی تقسیم کے عمل میں تیزی ، نامزد عہدوں کی تعداد کو قطعیت

چیف منسٹر کے سی آر کی او ایس ڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر کو ذمہ داریاں

چیف منسٹر کے سی آر کی او ایس ڈی اور ڈپٹی چیف منسٹر کو ذمہ داریاں
حیدرآباد۔/3جولائی، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تلنگانہ کے اقلیتی اداروں پر تقررات کے سلسلہ میں سرگرمی دکھائے جانے کے بعد اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل بھی تیز کردیا گیا ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے اقلیتی اداروں اور ان میں نامزد عہدوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اپنے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی ایم اے رشید کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتی اداروں کے بارے میں فائیل تیار کریں جس میں ادارے اور ان میں نامزد عہدوں کی تقسیم کے علاوہ چیف منسٹر کے دفتر کو ان عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں وصول ہونے والی نمائندگیاں شامل رہیں۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ رمضان المبارک کے تحفہ کے طور پر عیدالفطر سے قبل اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی اور وقف بورڈ پر تقررات مکمل کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ پارٹی کے دیگر قائدین سے مشاورت کے بعد 10اضلاع کے پارٹی قائدین کی فہرست تیار کریں جو نامزد عہدوں کے اہل ہیں۔ عہدوں کیلئے سفارشات کے ساتھ کس ادارہ میں مذکورہ شخص موزوں رہے گا اس کا بھی تذکرہ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر کو مختلف وزراء اور ارکان اسمبلی کی جانب سے 200سے زائد سفارشات وصول ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر کے پاس 50سے زائد قائدین نے اپنے بائیو ڈاٹا داخل کئے۔ ان تمام کو یکجا کرتے ہوئے پارٹی کیلئے ان کی خدمات اور اہلیت کی بنیاد پر تقرر کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے 200نامزد عہدوں کی نشاندہی کی ہے جن پر تقررات کئے جاسکتے ہیں۔ چندر شیکھر راؤ اضلاع سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائدین کو بھی نامزد عہدوں پر مناسب نمائندگی کے حق میں ہیں۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ احمد ندیم ( آئی اے ایس ) نے مذکورہ تینوں اداروں کی تقسیم کا عمل تیز کردیا ہے۔انہوں نے ان اداروں کے ملازمین، انفراسٹرکچر اور بجٹ کے بارے میں متعلقہ عہدیداروں سے تفصیلات طلب کیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے تلنگانہ کے ایڈوکیٹ جنرل سے حج کمیٹی اور وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں قانونی رائے حاصل کی ہے کیونکہ ان دونوں اداروں کا تعلق مرکزی حکومت کے قانون کے تحت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل نے رائے دی کہ حکومت کو حج کمیٹی اور وقف بورڈ کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی کیونکہ مرکزی حکومت نے ہی دو نئی ریاستوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا۔ ایڈوکیٹ جنرل کی رائے کے مطابق حکومت اپنے طور پر ان اداروں کو تقسیم کرتے ہوئے صرف اس کی اطلاع مرکز کو دے سکتی ہے۔ تقسیم کے بعد حج کمیٹی کو تلنگانہ میں سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کروانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ سنٹرل حج کمیٹی کو بھی اس کی اطلاع دی جائے گی تاکہ وہاں تلنگانہ کمیٹی کا شمار ایک نئی ریاست کی حیثیت سے کیا جائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں وقف بورڈ، حج کمیٹی اور اردو اکیڈیمی کی تقسیم کے سلسلہ میں جاری سرگرمیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ان اداروں پر جلد از جلد تقررات کے حق میں ہے۔

TOPPOPULARRECENT